بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

خرید و فروخت میں دکاندار کی طرف سے زائد رقم آجانے کی صورت میں رقم کو واپس کرنے کا حکم


سوال

 دو سے تین سال پہلے کراچی سے حیدرآباد تبلیغ کے سفر میں جانا ہوا، وہاں ساتھیوں کے لیےافطاری کا سامان لینے کے لیے  ایک دکان پر گیا، جب سامان لے کر واپسی آیا، تو مقام پر آکر معلوم ہوا کہ دکاندار نے غلطی سے پیسے زیادہ واپس کردیے، اب اس کو جاکر واپس دینے چاہیے تھے مگر جانا نہیں ہوا، اور پھر اسی طرح واپس کراچی آگئے، تو کیا اب مجھ پر یہ لازم ہے کہ اس کی اضافی دی ہوئی رقم اس تک پہنچاؤں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل پر دکان دار سے لی گئی زائد رقم کا کسی بھی طریقے سے دکان دارکو واپس کرنا لازم ہے۔

مشکاة المصابیح میں ہے:

"وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا لا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."

(كتاب البيوع، باب الغصب و العارية، ج:2، ص:889، ط:المكتب الإسلامي)

ترجمہ:"حضرت ابو حرہ رقاشی اپنے  چچا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"خبردار! ظلم نہ کرو، خبردار! کسی انسان کا مال اُس کی رضامندی کے بغیر حلال نہیں۔"

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه."

(‌‌المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية،ص27،ط؛دار الجیل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100498

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں