
ایک کاروبار ہے جو اسکرین کے نام پر چل رہا ہے اس میں کمپنی والوں نے جو طریقہ شرعی پیش کیا ہے وہ یہ ہے کہ کمپنی چلانے والے، خریدار کو ایک اسکرین فروخت کرتا ہے جس پر مختلف قسم کی چیزوں کے اشتہارات چلائے جاتے ہیں پھر کمپنی چلانے والا اسی خریدارسے کرایہ پر لے لیتا ہے کہ آپ کو ماہانہ 25000 روپے یا کم و پیش کرایہ ملے گا۔کرایہ کے لئے ایک وقت مقرر کیا جاتا ہے وقت پورا ہونے پر اس کو اختیار ہوتا ہے کہ آپ اسکرین واپس لے لیں یا آگے مزید کرایہ پر دے دیں یا کمپنی کو اسی قیمت پر جس پر کمپنی سے خرید اتھا فروخت کر دے۔ (مزید کچھ وضاحتیں )
1: یہ دونوں معاملے ایسے جڑے ہوئے ہوتے ہیں کہ اگر کرایہ پر لینے کا معاملہ نہ ہو تو خریدار پہلے معاملہ بیع کے لئے تیار نہیں ہوتا۔
2: چوں کہ آگے کرایہ پر دینے کا معاملہ لازمی اور ضروری ہوتا ہے اس وجہ سے قبضہ کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، اگر چہ کمپنی والے کہتے ہیں کہ اگر آپ چاہیں تو آپ کو قبضہ دیتے ہیں تو یوں خریدار صرف 5 لاکھ روپے مثلا دے دیتا ہے اور ہر مہینے 25 ہزار روپیہ آتے ہیں اور 5 لاکھ بھی محفوظ ہوتے ہیں۔
3۔در میان اجارہ اگر اسکرین کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ضمانت اور تاوان کمپنی از خود تبر عابرداشت کرتی ہے، وقت پورا ہونے کے بعد چوں کہ خریدار کو اسکرین استعمال کرنا نہیں آتا اور نہ ہی دوسری جگہ اجارے کی معلوم ہوتی ہے تو یا اپنے 5 لاکھ روپےواپس لیتے ہیں یا مزید وقت کےلیے اجارے پر دےدیتا ہے۔
4۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس میں جتنے لوگ شامل ہیں اتنی اسکرین موجود نہیں، بلکہ ایک اسکرین کئی لوگوں پر فروخت ہوتی ہے، کافی سارے لوگوں کو تشویش ہے۔
وضاحت: ا سکرین سے مراد سڑکوں پر اشتہارات کے لیے لگائی گئی اسکرین ہے۔
5۔ اشتہارات میں بعض اوقات جاندار کی تصاویر اور ویڈ یو ز بھی ہوتی ہیں۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ فرضی کا روبار ہے، کسی خریدار نے اب تک اسکرین دیکھی بھی نہیں ہے۔
صرف اسے اسکرین کا نمبر اور اس کی لوکیشن بتائی جاتی ہے ۔
صورتِ مسئولہ میں اسکرین کی خرید و فروخت اور کرایہ داری کا مذکورہ معاملہ مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر ناجائز ہے ۔
1۔خریدوفروخت اور کرایہ داری کے معاملے کو ایک دوسرے سے مشروط رکھا جاتا ہے،جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےایک معاملہ میں دومشروط معاملوں کو انجام دینے سے منع فرمایا ہے۔
2۔ خرید و فروخت ہونے کے بعد خریدار اسکرین پر قبضہ نہیں کرتا، قبضہ سے پہلے ہی اسکرین آگے کرایہ پر دے دی جاتی ہے، جب کہ منقولی اشیاء خریدنے کے بعد اس پر قبضہ سے پہلے تصرف کرنا منع ہے۔
3۔ اگر کرایہ پر دی ہوئی چیز کو نقصان پہنچے اور کرایہ دار کی غلطی نہ ہو تو اس پر ضمان نہیں آتا، جب کہ یہاں ضمان ہے۔اور ضمان بھی کمپنی پر ہے جو کہ کرایہ دار نہیں۔
4۔ اگر اس کاروبار میں شریک لوگوں میں سے ہر شخص ایک اسکرین کا مالک ہے اور اتنی اسکرینیں موجود نہیں جتنے مالک ہیں ، اور یہ کارو بار فرضی ہے تو اس میں شرکت جائز نہ ہوگی۔
5۔ اگر ان اسکرینوں پر جاندار کی تصویر اور ویڈیوز چلتی ہیں تو گناہ کے کام میں معاونت کی وجہ سے اسے کرایہ پر دینابھی ناجائز ہوگا۔
مشكوة المصابیح میں ہے:
وعن عمرو بن شعیب ، عن ابیه ، عن جدہ ،قال: قال رسول الله صلى اللّه عليهِ وسلم: «لَا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعِ وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ يَضمن وَلَا بيع مَا لَيْسَ عِنْدَكَ» . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وقال الترمذي: هذا صحيح
ترجمہ:عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی علیہ السلام نے فرمایا: ” قرض اور بیع ایک ساتھ جائز نہیں ہے، اورنہ ایک بیع میں دو شرطیں، اور نہ ہی اس چیز کا نفع جائز ہے جس کا ضمان نہیں اور اس چیز کی بیع بھی جائز نہیں جو تیرے پاس نہیں۔“
(کتاب البیوع، باب المنھی عنھا من البیوع، حديث نمبر: 2870، ج: 3، ص: 114، ط: مکتبة البشری)
المبسوط للسرخسی میں ہے:
" والكلام في بِيع المبيع قبل القبْض في فصول احدھا في الطعام فإِنه ليس لِمشتری الطعام أن يبيعه قَبل أن يقبضه لما روي أن النَّبي صلى الله عليه وسلم «نَهَى عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ» "وكذلك ما سوى الطعام من المنْقولات لا يجوز بیعه قبل القبضعندنا،۔۔۔۔۔۔۔۔۔والإِجارة في ذلك كله كالبيع "
(باب البیوع الفاسدۃ، ج: 13، ص: 8، ط: إدارۃ القرآن)
الجامع الکبیر میں ہے:
" رجل اشترى عبدًا ولم يقبضه حتى أعاره أو آجره من البائع، لم يجز،"
(باب ما يكون إجارة في البيع وما لا يكون وما يبيع قبل القبض، ص: 240، ط: الإستقامة)
شرح مجلۃ الاحکام العدلیۃمیں ہے:
" للمشتري أن يبيع المبيع لآخر قبل قبضه إن كان عقارا وإن كان منقولا فلا يعني وإن كان المبيع منقولا فليس للمشترى أن يبيعه لآخر لأن بيعه فاسدا اتفاقا …….ودخل في البیع الإجارۃ لانھا بیع المنافع ..... فليس للمشترى أن يؤجر المبيع من آخر قبل قبضه. "
(کتاب البیوع، الباب الرابع، الفصل الأول في بیان حق التصرف، ج: 2، ص: 174، ط: مکتبة إسلامیة کوئٹة)
مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:
" (المادة: 600) المأجور أمانة في يد المستأجر إن كان عقد الإجارة صحيحا أو لم يكن.... (المادة: 601) لا يلزم الضمان إذا تلف المأجور في يد المستأجر ما لم يكن بتقصيره أو تعديه أو مخالفته لمأذونيته.... (المادة: 602) يلزم الضمان على المستأجر لو تلف المأجور أو طرأ على قيمته نقصان بتعديه. مثلا لو ضرب المستأجر دابة الكراء فماتت منه أو ساقها بعنف وشدة هلكت لزمه ضمان قيمتها...(المادة 607) لو تلف المستأجر فيه بتعدي الأجير أو تقصيره يضمن."
(الكتاب الثاني: في الإجارات، الباب الثامن في بيان الضمانات، ص: 112، ط: نور محمد كراتشي)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144709100068
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن