بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

خریدار کا عیوب چھپا کر مال بیچنا اور رقم واپس نہ کرنا


سوال

اگر ایک شخص اپنی کوئی چیز عیب و نقائص چھپا کر صرف خوبیاں (اور وہ بھی بڑھا چڑھا کر بیان کر کے دھو کہ دہی سے بیچتا ہے اور جب بعد میں خریدار پر اس اُس چیز کے عیب و نقائص ظاہر ہو جاتے ہیں تو وہ اگلے دن اس چیز کے سابقہ مالک کو بتاتا ہے کہ بھائی تم نے جو جو خوبیاں بیان کیں وہ سب تو نہیں ہیں اور ساتھ ہی اس میں عیوب ہیں۔ اب مہربانی کر کے اپنی چیز واپس لو اور مجھے میرے پیسے واپس کر دو ۔ اب وہ پیسہ دینے سے انکاری تو نہیں ہے ۔ مگر جب پیسہ لینے اُس کے گھر یا دکان پر جاؤ تو اکثر تو وہ ملتا نہیں اور کبھی کبھار اگر ملتا بھی ہے تو ٹال مٹول سے کام لیتا ( یعنی کام کو کل پر سوں پر ٹال دیتا ) ہے۔ ایسے شخص کے بارے میں ہمارے دین و شریعت کے کیا احکامات ہیں ۔ 

جواب

خریداری کے وقت اگر چیز فروخت کرنے والے نے چیز کے عیوب کو چھپاکر فروخت کیا ہو اور خریداری کے بعد اس میں خریدار کو کوئی عیب نظر آئے تو شریعت خریدار کو وہ خریدی گئی چیز واپس لوٹانے کا حق دیتی ہے، ساتھ ہی شریعت کا حکم یہ بھی ہے کہ بیچنے والا اپنی چیز کی خامی خریدار کو بتادے تاکہ خریدار کے ساتھ دھوکا نہ ہو اور اس کا نقصان نہ ہو، لہذا مسئولہ صورت میں بائع کا مبیع کی خامیاں چھپا کر اس کو بیچنا دھوکا دہی ہے جوکہ حرام ہے، ساتھ ہی چیز کی واپسی میں رقم کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لینا کسی کے حق پر ناحق قابض ہونا ہے جوکہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے ؛ اس لیے بائع کو چاہیے کہ اپنے اس عمل پر توبہ کرے، آئندہ کے لیے اس سے اجتناب کرے اور خریدار کو اس کی رقم فوری واپس ادا کردے۔

مسلم شریف میں ہے:

" (102) وحدثني ‌يحيى بن أيوب، ‌وقتيبة، ‌وابن حجر جميعا، عن ‌إسماعيل بن جعفر . قال ابن أيوب: حدثنا إسماعيل قال: أخبرني ‌العلاء ، عن ‌أبيه ، عن ‌أبي هريرة « أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال: أصابته السماء، يا رسول الله. قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس؟ ‌من ‌غش ‌فليس مني."

(ج: 1، ص: 69، ط: دار المنھاج)

مسند أحمد میں ہے:

"عن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من اقتطع مال امرئ مسلم ‌بغير ‌حق، لقي الله عز وجل ‌وهو ‌عليه ‌غضبان."

(ج: 7، ص: 59، ط: مؤسسة الرسالة)

وفیہ ایضاً:

"حدثنا وكيع قال: سمعت الأعمش قال: حدثت عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب."

( ج: 36، صف: 504، ط: مؤسسة الرسالة)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن واثلة بن الأسقع قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «‌من ‌باع ‌عيبا لم ينبه لم يزل في مقت الله أو لم تزل الملائكة تلعنه» . رواه ابن ماجه"

(باب خیار البیع، ج: 2، ص: 869، ط: المکتبة ا لإسلامی)

البحرالرائق میں ہے:

"‌كتمان ‌عيب ‌السلعة ‌حرام وفي البزازية وفي الفتاوى إذا باع سلعة معيبة عليه البيان وإن لم يبين قال بعض مشايخنا يفسق وترد شهادته قال الصدر لا نأخذ به. اهـ. وقيده في الخلاصة بأن يعلم به."

(کتاب البیوع، باب خیارالعیب، ج: 6، ص: 38، ط: دارالکتاب الاسلامی)

فتاوی شامی ہے:

"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير ‌سبب ‌شرعي."

(کتاب الحدود، باب التعزیر، ج: 4، ص: 61،  ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100482

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں