بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کھانے پینے کی اشیاء کے لیے بنائے گئے سافٹ ایئر میں شراب کو کھانے کی فہرست میں شامل کرنے کا حکم


سوال

میں نے ایک سافٹ ایئر بنایا ہے جو کہ لاکھوں روپے کا ہے،اس میں کوئی خرید وفروخت نہیں ہوتی، صرف Inventry Manegment (سامان کی نگرانی اور کنٹرول ) ہوتی ہے،  اس سافٹ ایئر میں ڈیٹا ہوتا ہے کہ : یہ مال اتنا آیا، اتنا آنا ہے،اور اتنا باقی ہے،جیسا کہ ہمارے ہاں امتیاز اسٹور ہیں، ان کا ایک سافٹ ایئر ہوتا ہے، اس میں صرف یہ ہوتا ہے کہ گھی کے اتنے ڈبے رہ  گئے، اتنا سامان رہ گیا ہے، یعنی چیزوں کا صرف ڈیٹا ہوتا ہے، کسی قسم کی کوئی خرید وفروخت نہیں ہوتی، یہ سافٹ ایئر امریکہ کے ریسٹورنٹ میں بھی استعمال ہوتا ہے، تو ان ریسٹورنٹ والوں نے اس میں مجھ سے شراب  بھی ایڈ کروائی ہے،آیا  میرا  یہ عمل  شرعاً درست ہے یا نہیں ؟   

جواب

صورت مسئولہ میں اگر چہ آپ شراب کی خرید وفروخت میں براہ ِ راست شریک نہیں ہیں، لیکن مذکورہ سافٹ ایئر میں شراب ایڈ کرنےسے اس کی خرید وفروخت میں کسی نہ کسی حد تک آپ کا تعاون شامل ہورہا ہے، جبکہ شراب میں کسی بھی قسم کے تعاون سے حدیث ِ پاک میں منع کیا گیا ہے،لہذا آپ کے لیےاس سافٹ ایئر میں شراب ایڈ کرنا جائز نہیں تھا،اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حکم یہ ہے کہ پورے سافٹ ایئر ميں سےجس قدر آمدن شراب ایڈ کرنے سے حاصل ہوئی ہو اسے ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کردیں، اور اپنے اس عمل پر توبہ واستغفار کریں،اور آئندہ اس عمل سے اجتناب کریں۔ 

ترمذی شریف میں ہے : 

"حدثنا عبد الله بن منير، قال: سمعت أبا عاصم، عن شبيب بن بشر، عن أنس بن مالك قال: " لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخمر عشرة: عاصرها، ومعتصرها، وشاربها، وحاملها، والمحمولة إليه، وساقيها، وبائعها، وآكل ثمنها، والمشتري لها، والمشتراة له ": هذا حديث غريب من حديث أنس وقد روي نحو هذا عن إبن عباس، وإبن مسعود، وإبن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم."

(أبوب البیوع، ‌‌باب النهي أن يتخذ الخمر خلا، ج:3، ص:143، رقم الحدیث:1315، ط:بشری)

ترجمہ : ” حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے متعلق سے دس آدمیوں پر لعنت بھیجی ہے : (1) شراب نچوڑنے والے پر ( یہ مجاز ہے، مراد انگور نچوڑ نے والا ہے ) (2) شراب (انگور ) نچڑوانےوالے پر،یعنی سیٹھ پر جس کے لئے نوکر انگور نچوڑتے ہیں (3) شراب پینے والے پر (4) شراب اٹھانے والے پر ( علماء فرماتے ہیں: اس سے مراد وہ شخص ہے جو دوکان سے شراب خرید کر گھر لے جاتا ہے، رکشہ اور ریڑھے والا مراد نہیں ،مگر اس میں یہ اضافہ ضروری ہے کہ اگر رکشہ یا ریڑھے والا صرف شراب لاد کر لے جا رہا ہے تو وہ بھی ملعون ہے اور اگر کوئی آدمی رکشہ میں بیٹھا ہے اور اس کے تھیلے میں شراب ہے تو یہ حاملها کا مصداق نہیں ) (5) جس کے لئے شراب اٹھا کر لائی جارہی ہے یعنی سیٹھ (6) شراب پلانے والے ساقی پر (7) شراب بیچنے والے دکاندار پر (8) شراب کی قیمت کھانے والے پر ( جس کی کل یا اکثر آمدنی شراب سے ہو اس کے یہاں دعوت کھانا بھی شراب کا ثمن کھانا ہے ) (9) شراب خرید نے والے پر (10) جس کے لئے شراب خریدی جارہی ہے۔ علماء نے فرمایا کہ ان دس میں حصر نہیں، جو بھی شراب بنانے میں یا نقل و حمل میں حصہ دار ہے وہ سب لوگ ملعون ہیں۔“

(تحفۃ الأمعی)

جواہر الفقہ میں ہے :

"ثم السبب إن كان سببا محركا وداعيا إلى المعصية فالتسبب فيه حرام کالإعانة على المعصية بنص القرآن كقوله تعالى :"لا تسبوا الذين يدعون من دون الله" وقوله تعالى :"فلا يخضعن بالقول" وقوله تعالى:"لا تبرجن الآية" ، وإن لم يكن محرّكا وداعيا بل موصلا محضا وهو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في إقامة المعصية به إلى إحداث صنعة من الفاعل كبيع السلاح من أهل الفتنة وبيع العصير ممن يتخذها خمرا وبيع الأمرد ممن يعصى به وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر أو يتخذها كنيسة أو بيت نار وأمثالها فكله مكروه تحريما بشرط أن يعلم به البائع والاٰجر من دون تصریح به باللسان، فإنه إن لم يعلم كان معذورا وإن علم وصرّح كان داخلاً في الإعانة المحرمة.

وإن كان سبباً بعيدا بحيث لا يفضي إلى المعصية على حالته الموجودة بل يحتاج إلى إحداث صنعة فيه كبيع الحديد من أهل الفتنة وأمثالها فتكره تنزيها."

(رسالة: تفصیل الکلام فی مسئلة الإعانة علی الحرام، ج:2، ص:453، ط:مکتبة دارالعلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100849

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں