بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا خاندان میں شادی کرنے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے؟


سوال

میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کزن میرج اسلام میں جائز ہے، لیکن جینیاتی لحاظ سے اس میں بہت سے مسائل ہوتے ہیں، تو کیا یہ درست ہے؟ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ حضور پاک ﷺ نے بچیوں کے رشتے خاندان سے باہر کرنے کو ترجیح دینے کا فرمایا تھا۔ کیا یہ بات سچ ہے؟ اگر سچ ہے تو اس کا حوالہ دیں۔

جواب

شریعت مطہرہ میں  خاندان میں شادی کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بہت سے صحابہ اور صحابیات کی شادیاں آپس میں خاندان میں کی گئی ہیں،خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا آپ کی پھوپی زاد بہن تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی کی تھی، خاندان میں نکاح کے حوالے سے جینیاتی لحاظ سے جو بات مشہور ہے کہ اس سے بچے میں عیب رہتا ہے، یہ بے اصل بات ہے، ایسا ہونا ضروری نہیں ہے،عیب دار بچے تو اجنبی گھرانوں میں شادی کرنے سے بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ اور جہاں تک مذکورہ حدیث کا تعلق ہےتو محدثین نے اس پر کلام کیا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور بعض نے اسے من گھڑت کہا ہے، مزید یہ کہ جن کے ساتھ نکاح کرنے سے نقصان ہو سکتا تھا اللہ تعالی نے ان کے ساتھ نکاح کو حرام کر دیا ہے اور جن کے ساتھ نکاح کرنے سے نقصان نہیں ہوگا ان کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت دی ہے اور وہ خالق کائنات ہے اس کو ہر ہر چیز کا علم ہے اور اس نے ایسا کوئی کام کرنے کی اجازت نہیں دی جس میں نقصان ہو۔

سورہ نساء میں ارشاد ہے:

"حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ  23

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا  24."

ترجمہ:23:"تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں، اور تمہاری بہنیں ،  اور تمہاری پھوپھیاں ، اور تمہاری خالائیں ، اور بھتیجیاں اور بھانجیاں ،اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہے (یعنی انا) اور تمہاری وہ بہنیں جو دودھ پینے کی وجہ سے ہیں ، اور تمہاری بیبیوں کی مائیں، اور تمہاری بیٹیوں کی بیٹیاں ، جو کہ تمہاری پرورش میں رہتی ہیں ان بیبیوں سے کہ جن کے ساتھ تم نے صحبت کی ہو ،اور اگر تم نے ان بیبیوں سے صحبت نہ کی ہو تو تم کو کوئی گناہ نہیں اور تمہارے ان بیٹوں کی بیبیاں جو کہ تمہاری نسل سے ہوں ، اور یہ کہ تم دو بہنوں کو (رضاعی ہوں یا نسبی) ایک ساتھ رکھو لیکن جو پہلے ہوچکا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑے بخشنے والے بڑے رحمت والے ہیں۔

24:اور وہ عورتیں جو کہ شوہر والیاں ہیں مگر جو کہ تمہاری مملوک ہوجاویں اللہ تعالیٰ نے ان احکام کو تم پر فرض کردیا ہے ، اور ان (عورتوں) کے سوا ( اور عورتیں) تمہارے لئے حلال کی گئیں ہیں (یعنی یہ) کہ تم ان کو اپنے مالوں کے ذریعہ سے چاہو ، اس طرح سے کہ تم بیوی بناؤ صرف مستی ہی نکالنا نہ ہو ، پھر جس طریق سے تم ان عورتوں سے منتفع ہوئے ہو سو ان کو ان کے مہر دو جو کچھ مقرر ہوچکے ہیں اور مقرر ہوئے بعد بھی جس پر تم باہم رضامند ہوجاو ٴاس میں تم پر کوئی گناہ نہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑے جاننے والے ہیں بڑے حکمت والے ہیں۔"(بیان القرآن)

التلخیص الحبیر میں ہے:

قال ابن حجر: حدیث ” لاتنکحوا القرابة القریبة؛ فان الولد یحلق ضاویاً“ ھذا الحدیث تبع في ایرادہ امام الحرمین ھو والقاضي الحسین۔ وقال ابن الصلاح: لم أجد له أصلاً معتمداً۔۔۔۔۔۔وروی ابراہیم الحربي في غریب الحدیث عن عبد اللّٰہ بن الموٴمل عن ابن أبي ملیکة قال قال عمر لآل السائب: قد أضوأتم، فانکحوا في النوابغ۔۔۔

(باب استحباب النکاح، ج: 3، ص: 309، ط: دار الکتب العلمیة، بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144602102667

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں