بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

خاندان میں چغلی کرکے فساد پھیلانے والوں کا حکم اور ان سے قطع تعلقی کی حدود


سوال

گزارش ہے کہ میرے دو کزن ہیں: ایک تایا زاد ہے اور دوسرا پھوپھی زاد،یہ دونوں خاندان میں جھگڑا کرواتے ہیں، ایک فریق کی بات دوسرے کو اور دوسرے کی بات پہلے کو بتاتے ہیں، اور بہت زیادہ منافقت کرتے ہیں،بار بار منع کرنے کے باوجود اس عمل سے باز نہیں آتے، اور خاندان میں بہت دوری پیدا کر دی گئی ہے۔ان دونوں کے لیے کیا حکم ہے؟اور خاندان میں ان دونوں سے بچنے کے لیے کیا پابندیاں لگا سکتے ہیں؟ہم ان دونوں کی اصلاح چاہتے ہیں اور خاندان کو ان کے نقصان سے بچانا چاہتے ہیں،چغل خوری، ادھر کی بات اُدھر (لگائی بجھائی) کی عادت سے تنگ ہیں،اس پر ان دونوں کو نصیحت کرنے کے لیے تحریری فتویٰ درکار ہے۔

جواب

اللہ تعالیٰ نے انسان کو زبان عطا فرمائی جو خیر و شر دونوں کا ذریعہ بن سکتی ہے، شریعتِ مطہرہ نے زبان کے ذریعے فساد پھیلانے، باتوں کو ادھر سے اُدھر پہنچا کر دلوں میں نفرت پیدا کرنےاور رشتوں کو توڑنے جیسے افعال کو سخت گناہ قرار دیا ہے، چغل خوری  اور منافقت ایسے جرائم ہیں جن پر قبر میں عذاب اور آخرت میں ہلاکت کی وعید آئی ہے:نبی کریم ﷺ نے فرمایا"لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ"(ترجمہ: چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا)اور ایک موقع پر دو قبروں کے پاس سے گزرتے ہوئے فرمایا:"إنهما ليعذبان، وما يعذبان في كبير؛ أما أحدهما فكان لا يستتر من البول، وأما الآخر فكان يمشي بالنميمة"،یعنیان دونوں کو قبر میں عذاب ہو رہا ہے،جن میں سےایک چغل خوری کیا کرتا تھا۔

اورایسے افعال صرف فرد کی ذات کو نہیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کو تباہ کر دیتے ہیں،خاندان میں دشمنی، قطع رحمی اور نفرتیں پیداکرنے والا شخص اللہ کے نزدیک سخت مجرم ہے۔

شرعی حکم:

1-ایسے افراد کبیرہ گناہ کے مرتکب ہیں۔شریعت میں چغلی (نمیمہ)، فتنہ انگیزی اور منافقت جیسے افعال کو کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے۔ ان کے لیے قرآن و حدیث میں سخت وعید آئی ہے۔2- بار بار تنبیہ کے باوجود باز نہ آنا، فسق میں اضافہ ہے،اگرکوئی  شخص  خیر خواہی اور نصیحت کے باوجود بھی وہی عمل کرتا رہے جو فتنہ و فساد پر مبنی ہو، تو وہ فاسق معلن (کھلا گناہ گار) قرار پاتا ہے۔3-ایسے افراد کی بات کا اعتبار نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ اعتماد کے لائق نہیں ہوتا۔

اصلاح کے لیے تدابیر:

1. علیحدہ، انفرادی اور سنجیدہ نصیحت کریں:ان دونوں کو الگ الگ بیٹھا کر، نرمی سے، قرآن و حدیث کی وعید، اور دنیا و آخرت کے نقصان کو سامنے رکھتے ہوئے نصیحت کی جائے،اگر زبانی نصیحت کا اثر نہ ہو، تو خاندان کے کچھ معتبر افراد کی طرف سے ان کو سمجھایاجائے۔3. خاندان کی سطح پر اجتماعی سمجھوتے یا حدود مقرر کی جائیں:تمام افراد باہمی مشورے سے یہ طے کریں کہ:کون سی بات کس سے کی جائے؟کس کی موجودگی میں کیا معاملات زیر بحث آئیں چغلی یا نقلِ کلام کی صورت میں فوراً تردید اور لاعلمی اختیار کی جائے۔

ایسے افراد سے بچنے کی شرعی تدابیر و پابندیاں:

ان سے کلام اور اختلاط محدود کیا جائےتاکہ وہ مزید فتنے کا ذریعہ نہ بنیں،ان کی غیرضروری مجلسوں سے اجتناب کیا جائے،ان پر معاشرتی حد مقرر ہواگر وہ مسلسل فساد پھیلاتے رہیں، توانہیں خاندانی مشوروں، اہم فیصلوں اور تقاریب سے وقتی طور پر علیحدہ کیا جا سکتا ہےان کی باتوں پر تحقیق کے بغیر کسی فیصلے سے گریز کیا جائے،فتنہ سے بچنے کے لیے لوگوں کو محتاط کیا جائے،یہ شرعاً جائز ہے کہ کسی کے فتنہ سے بچانے کے لیے دوسروں کو محتاط کیا جائے،بشرطیکہ وہ بہتان نہ ہو بلکہ حقائق پر مبنی ہو۔

ارشادباری تعالی ہے:

"هَمَّازٍ مَّشَّاءٍۢ بِنَمِيمٍ"(سورۃ القلم: 11)

ترجمہ:

"بےوقعت ہو طعنے دینے والا ہو چغلیاں لگاتا پھرتا ہو۔"(ازبیان القرآن)

صحیح بخاری کی روایت ہے:

"عن ابن عباس قال:خرج النبي صلى الله عليه وسلم من بعض حيطان المدينة، فسمع صوت إنسانين يعذبان في قبورهما، فقال: (يعذبان، وما يعذبان في كبير، وإنه لكبير، كان أحدهما لا يستتر من البول، وكان الآخر يمشي بالنميمة). ثم دعا بجريدة فكسرها بكسرتين أو ثنتين، فجعل كسرة في قبر هذا، وكسرة في قبر هذا، فقال: (لعله يخفف عنهما ما لم ييبسا)."

(باب: النميمة من الكبائر، ج: 5، ص: 2250، ط: دار ابن کثیر)

ترجمہ:

"حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں:نبی کریم ﷺ مدینہ کے ایک باغ سے گزرے تو آپ نے دو آدمیوں کی آواز سنی جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، حالانکہ وہ کسی بڑے (گناہ) میں مبتلا نہ تھے، بلکہ وہ گناہ واقعی بڑا تھا۔ ان میں سے ایک پیشاب کےچھینٹوں سےمحفوظ نہیں رہتاتھا، اور دوسرا چغلی کیا کرتا تھا۔"پھر آپ ﷺ نے ایک ہری شاخ منگوائی، اسے دو حصوں میں توڑا، اور ایک ٹکڑا ایک کی قبر پر اور دوسرا ٹکڑا دوسرے کی قبر پر رکھ دیا،اور فرمایا:"شاید جب تک یہ خشک نہ ہوں، ان کے عذاب میں کچھ کمی ہو جائے۔"

صحیح مسلم کی روایت ہے:

"عن همام بن الحارث قال: كنا جلوسا مع حذيفة في المسجد، فجاء رجل حتى جلس إلينا، فقيل لحذيفة: إن هذا يرفع إلى السلطان أشياء، فقال حذيفة - إرادة أن يسمعه -: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا يدخل الجنة قتات ."

(کتاب الإیمان، ‌‌باب بيان غلظ تحريم النميمة، ج: 1، ص: 70، ط: دار المنهاج)

ترجمہ:

"حضرت ہَمّام بن حارث فرماتے ہیں:ہم مسجد میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک شخص آیا اور ہمارے پاس آ کر بیٹھ گیا۔کسی نے حضرت حذیفہ سے کہا: یہ آدمی (حکومت کو) لوگوں کی باتیں پہنچاتا ہے۔تو حضرت حذیفہ نے، اس کو سنانے کی نیت سے فرمایا:میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:"چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔"

لہذاتمام اہلِ خاندان پر لازم ہے کہ وہ حسنِ ظن، صلہ رحمی اور زبان کی حفاظت کو اپنائیں، اور کسی ایک یا دو افراد کی وجہ سے پورے نظامِ خاندانی کو برباد ہونے سے بچائیں،اوران کوسمجھانےکی کوشش کریں اوران کی باتوں میں نہ آئیں ،پہلےان کےاس قبیح فعل پراہل خانہ کوآگاہ کریں ،کیونکہ فتنے سے بچاؤ بھی دین کا حصہ ہے، اور اصلاح کی مسلسل کوشش بھی عبادت ہے۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101075

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں