
کیا اکڑوں بیٹھ کر کھانا کھانا سنت ہے؟ اور کیا یہ نبی علیہ السلام سے ثابت ہے؟
نبی کریم ﷺسے کھانا تناول فرماتے وقت بیٹھنے کی مختلف کیفیات منقول ہیں،بنیادی طور پرآپ ﷺکھانے کے وقت ایسی نشست کو پسند فرماتے تھے ،جو تواضع و عاجزی والی ہو، اور ایسی نشست سے آپ ﷺ نے منع فرمایا جو متکبرانہ ہو۔
صورتِ مسئولہ میں رسول ﷺسے اُکڑوں(پاؤں کے تلووں کے بل بیٹھنا) بھی ثابت ہے،اور دو زانو بیٹھ کر تناول فرمانا بھی ثابت ہے،اور دائیں پاؤں کو اٹھا کر بائیں کو بچھا کر بیٹھ کر کھانا بھی سنت ہے،لہذا کھاتے وقت ان میں سے کسی بھی صورت کو اختیار کرنا سنت کے موافق ہوگا۔
شمائلِ ترمذی میں ہے:
"حدثنا مصعب بن سليم قال: سمعت انس بن مالك يقول: اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بتمر فرايته ياكل وهو مقع من الجوع."
(باب صفة أكل رسول الله صلى الله عليه وسلم،ص:1492،ط: البشرى)
ترجمہ:
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چھوہارے لائے گئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو كھاتےہو ئے ديكھا،دراں حاليكہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھوک کی وجہ سے اكڑوں بیٹھنے والے تھے۔
سننِ ابی داؤد میں ہے:
حدثنا عبد الله بن بسر، قال: كان للنبي صلى الله عليه وسلم قصعة يقال لها الغراء يحملها أربعة رجال، فلما أضحوا وسجدوا الضحى أتي بتلك القصعة - يعني وقد ثرد فيها - فالتفوا عليها، فلما كثروا جثا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أعرابي: ما هذه الجلسة؟ قال النبي صلى الله عليه وسلم «إن الله جعلني عبدا كريما، ولم يجعلني جبارا عنيدا» ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كلوا من حواليها، ودعوا ذروتها، يبارك فيها»
(باب ما جاء في الأكل من أعلى الصفحة، ج:3، ص:348، ط:المكتبة العصرية،بيروت)
ترجمہ:
حضرت عبداللہ ابن بسر روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺکا ایک بڑا پیالہ تھا جس کو چار آدمی اٹھاتے تھے یعنی جب اس میں کھانا ڈال لیا جاتا تو اس قدر بھاری ہو جاتا کہ چار آدمیوں کے بغیر نہ اٹھایا جا سکتا یا پھر بڑا ہونے کی وجہ سے خالی ہی وہ اتنا بھاری تھا کہ جس کو چار آدمی اٹھا سکتے تھے اس کا نام غراء تھا۔ جب چاشت کا وقت ہوتا اور چاشت کی نماز پڑھ چکتے تو اس پیالے کو لایا جاتا اور اس میں ثرید تیار کیا جاتا، پھر اس کے گرد جمع ہو کر لوگ بیٹھ جاتے جب لوگوں کی تعد ادز یادہ ہو جاتی تو آپ ﷺ گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے یعنی جگہ کی تنگی کی وجہ سے تو ایک بدو کہنے لگا کیا اس طرح بیٹھتے ہیں ( آپ کے رتبہ کے لائق نہیں کہ آپ اس طرح بیٹھیں ) تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی نے مجھے تو اضع والا بندہ بنایا ہے یعنی اس طرح بیٹھنا تواضع کے قریب تر ہے، اور اللہ تعالیٰ نے مجھے سرکش و ضدی نہیں بنایا۔ پھر آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ اس کے کنارے سے کھاؤ اور اس کی درمیانی بلندی کو چھوڑ دو (یعنی درمیان والا کھانا ) اس میں برکت دی جائے گی۔
(مظاہرِحق)
فتاوی شامی میں ہے:
"ومن السنة...ويبسط رجله اليسرى وينصب اليمني ، ولا يأكل الطعام حارا ولا يشمه ."
(كتاب الحظروالأباحة، ج:5، ص:340، ط: سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144708101129
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن