
ایک لڑکا اور لڑکی کی شادی ہوئی اوررخصتی ہوکر لڑکی اپنے خاوند کے گھر چلی گئی اور لڑکی کو حق مہر ڈھائی تولہ سونا ادا کیا۔لڑکی 15دن اپنے خاوند کے ساتھ رہی اور دونوں اکیلے بھی ہوتے تھے،لیکن خاوند کے ساتھ 15دن رہنے کے باوجود دونوں کے درمیان ہمبستری نہیں ہوسکی،جس وجہ یہ تھی کہ خاوند جسمانی اور ذہنی طور پر ٹھیک نہیں تھا۔اب لڑکی نے یہ سب معاملہ دیکھ کر خاوند سے طلاق کا مطالبہ کیا اور خاوند نے اسے طلاق دے دی توکیا اب جو حق مہر لڑکی کو دیا گیا تھا وہ واپس کرے گی یا نہیں کرے گی؟اور اگر واپس کرنا ہے تو کتنا حق مہر واپس لوٹانا ہے؟
وضاحت:لڑکے سے متعلق کوئی میڈیکل چیک اپ وغیرہ تو نہیں ہوا تھا اور نہ ہی حتمی طور پر معلوم تھا،البتہاس نے کبھی تنہائی میں لڑکی کی آمادگی کے باجود جماع کی طرف رغبت کا اظہار بھی نہیں کیا ۔
صورت مسئولہ میں خلوت صحیحہ کے بعد طلاق دینے سے مکمل مہر کی ادائیگی لازم ہوگئی تھی،لہذااگر مہر بیوی وصول کرچکی ہے اور خلوت صحیحہ بھی ہوچکی ہے تو مکمل مہر بیوی کا ہے ،مہر کا کچھ بھی حصہ شوہر کولوٹانا ضروری نہیں ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة) والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء...."
(کتاب النکاح،ج1،ص303،ط:دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101599
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن