
میری والدہ کے پاس گاؤں میں ایک پلاٹ موجود ہے، جس کی قیمت نصابِ زکات سے زیادہ ہے، نیز ان کے پاس مزید رقم بھی موجود ہے جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہے۔ کیا ان پر قربانی واجب ہوگی یا نہیں؟
اسی طرح میرے دادا کی ایک زمین فروخت ہورہی ہے، جس میں میرے والد کے حصے کی رقم تقریباً بارہ لاکھ روپے بنتی ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا میرے والد پر بھی قربانی واجب ہوگی؟
واضح رہے کہ جس عاقل، بالغ، مقیم مسلمان مرد یا عورت کی ملکیت میں ایامِ قربانی کے دوران قرض منہا کرنے کے بعد ساڑھے سات تولہ سونا، ساڑھے باون تولہ چاندی، یا ان کی قیمت کے برابر رقم، مالِ تجارت، یا ضرورت و استعمال سے زائد ایسا سامان موجود ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا ان سب کا مجموعہ نصاب کو پہنچ جائے، تو اس پر قربانی واجب ہوتی ہے۔ اسی طرح ایسا پلاٹ جو رہائش یا ذاتی استعمال میں نہ ہو بلکہ خالی پڑا ہو، اگر اس کی قیمت نصاب کے برابر ہو تو اس کی وجہ سے بھی قربانی واجب ہوجاتی ہے۔اگر پلاٹ وراثت میں ملا ہو اور ابھی تک تقسیم نہ ہوا ہو، تو وہ دَینِ ضعیف کے حکم میں شمار ہوگا، اور دَینِ ضعیف کی وجہ سے قربانی واجب نہیں ہوتی۔ لہٰذا ایسی غیر تقسیم شدہ موروثی جائیداد کی بنا پر قربانی لازم نہیں ہوگی۔مزید یہ کہ قربانی واجب ہونے کے لیے نصاب پر سال گزرنا یا مال کا تجارتی ہونا شرط نہیں، بلکہ ذوالحجہ کی بارہویں تاریخ کے غروبِ آفتاب سے پہلے صاحبِ نصاب ہوجانا کافی ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی والدہ پر قربانی واجب ہے، جبکہ سائل کے والد پر قربانی واجب نہیں۔ البتہ اگر مذکورہ پلاٹ کے علاوہ ان کے پاس ضرورت سے زائد نصاب کے بقدر کوئی اور مال، رقم یا سامان موجود ہو تو ان پر بھی قربانی واجب ہوگی۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان."
(كتاب الزكاة، الباب الثامن في صدقة الفطر، ج:1، ص:191، ط:دار الفكر بيروت)
بدائع الصنائع میں ہے:
" ومنها الغنى لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «من وجد سعة فليضح» شرط عليه الصلاة والسلام السعة وهي الغنى ولأنا أوجبناها بمطلق المال ومن الجائز أن يستغرق الواجب جميع ماله فيؤدي إلى الحرج فلا بد من اعتبار الغنى وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه وما لا يستغني عنه وهو نصاب صدقة الفطر، وقد ذكرناه وما يتصل به من المسائل في صدقة الفطر."
(كتاب التضحية، فصل في شرائط وجوب في الأضحية، ج:5، ص:64، ط:دار الكتب العلمية)
وفیه أیضاً:
"وأما الغنى الذي يحرم به أخذ الصدقة وقبولها فهو الذي تجب به صدقة الفطر والأضحية وهو أن يملك من الأموال التي لا تجب فيها الزكاة ما يفضل عن حاجته وتبلغ قيمة الفاضل مائتي درهم من الثياب والفرش والدور والحوانيت والدواب والخدم زيادة على ما يحتاج إليه كل ذلك للابتذال والاستعمال لا للتجارة والإسامة، فإذا فضل من ذلك ما يبلغ قيمته مائتي درهم وجب عليه صدقة الفطر والأضحية وحرم عليه أخذ الصدقة، ثم قدر الحاجة ما ذكره الكرخي في مختصره فقال لا بأس بأن يعطى من الزكاة من له مسكن وما يتأثث به في منزله وخادم وفرس وسلاح وثياب البدن وكتب العلم إن كان من أهله فإن كان له فضل عن ذلك ما يبلغ قيمته مائتي درهم حرم عليه أخذ الصدقة لما روي عن الحسن البصري أنه قال كانوا يعطون الزكاة لمن يملك عشرة آلاف درهم من الفرس والسلاح والخدم والدار."
(كتاب الزكاة، فصل الذي يرجع إلى المؤدى إليه، ج:2، ص:48، ط:دار الكتب العلمية)
فتاوی شامی ہے:
"وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر).
(قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية، ولو له عقار يستغله فقيل: تلزم لو قيمته نصاباً، وقيل: لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل: قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفاً، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم."
(كتاب الأضحية، ج:6، ص:312، ط:سعید)
الموسوعۃ الفقہۃ الكویتیۃ میں ہے:
"الثاني: الدين الضعيف: وهو ما لم يكن ثمن مبيع ولا بدلا لقرض نقد، ومثاله المهر والدية وبدل الكتابة والخلع، فهذا متى قبض منه شيئا وكان عنده نصاب غيره قد انعقد حوله يزكيه معه كالمال المستفاد، وإن لم يكن عنده من غيره نصاب فإنه لا تجب فيه الزكاة إلا إذا قبض منه نصابا وحال عليه الحول عنده منذ قبضه؛ لأنه بقبضه أصبح مالا زكويا."
(حرف الزاي، زكاة الدين، ج:23، ص:230، ط:دارالسلاسل - الكويت)
امداد الفتاوی میں ہے:
"سوال: وجوب فطر واضحیہ وحرمتِ اخذ، زکوۃ وغیرہ و صدقات کے لیے عقار کی غناء کس طرح پر ہے ؟بہت جزئیات دیکھے مگر تسکین نہ ........اس مسئلہ میں منقح حکم فرمایا جاوے۔
الجواب :روایات مذکورہ تو زیادہ دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا ،لیکن استاذی علیہ الرحمہ کو امام محمد ؒکے قول پر فتوی دیتے ہوئے دیکھا،اور خود احقر کا عمل بھی اسی پر ہے ،مگر اس میں قدرے تفصیل ہے: وہ یہ کہ اگر اس عقار سے یہ شخص استغلال نہیں کرتا تب تو خود اس کی قیمت کا اعتبا ر ہے ،پس اگر وہ فاضل از حاجتِ اصلیہ قیمت بقدرِ نصاب ہے تو مانع اخذِ زکوۃ وموجبِ فطر واضحیہ ہے،اور اگر اس سے استغلال کرتا ہے تو اس کے غلہ کا اعتبار ہے، اگر اس کا غلہ سال بھر کے خرچ سے بمقداِر نصاب نہیں بچتا تو مانع اخذِ زکوۃ وموجبِ فطر واضحیہ نہیں ،اور امام صاحب کے قول کا تقدم علی الاطلاق نہیں .کما فصل فی رسم المفتی ۔"
(کتاب الزکوۃ والصدقۃ ،:ج :2،ص :60،ط :دارالعلوم کراچی )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711102342
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن