بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

خالہ بھانجی کو ایک نکاح میں جمع کر نے کا حکم


سوال

ایک شخص  اپنی بیوی کی سگی بھانجی سے نکاح کر کے اس کو لے کر بھاگ گیا ہے ،آیا یہ نکاح منعقد ہوا ہے یا نہیں ،اور اگر وہ شخص اپنی بیوی (خالہ)کو طلاق دیتا ہے تو بھانجی سے دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں دوسرا نکاح باطل ہے،سرے سے  منعقد ہی نہیں ہوا  ،یہ نکاح کے نام پر زنا اور حرام کاری ہے،البتہ پہلا نکاح صحیح ہے، پس اگر مذکورہ شخص پہلی بیوی(خالہ)کو طلاق دیتا ہے تو عدت گذرنے کے بعد (بھانجی)کے ساتھ دوبارہ نکاح کرکے ساتھ رہنا جائز ہوگا ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"إذا تزوجهما على التعاقب، وكان نكاح الأولى صحيحا فإن نكاح الثانية والحالة هذه باطل قطعا."

(کتاب النکاح، ج:3، ص:38، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100587

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں