
ایک شخص اپنی بیوی کی سگی بھانجی سے نکاح کر کے اس کو لے کر بھاگ گیا ہے ،آیا یہ نکاح منعقد ہوا ہے یا نہیں ،اور اگر وہ شخص اپنی بیوی (خالہ)کو طلاق دیتا ہے تو بھانجی سے دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا یا نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں دوسرا نکاح باطل ہے،سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا ،یہ نکاح کے نام پر زنا اور حرام کاری ہے،البتہ پہلا نکاح صحیح ہے، پس اگر مذکورہ شخص پہلی بیوی(خالہ)کو طلاق دیتا ہے تو عدت گذرنے کے بعد (بھانجی)کے ساتھ دوبارہ نکاح کرکے ساتھ رہنا جائز ہوگا ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"إذا تزوجهما على التعاقب، وكان نكاح الأولى صحيحا فإن نكاح الثانية والحالة هذه باطل قطعا."
(کتاب النکاح، ج:3، ص:38، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100587
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن