
ہمارے علاقے میں کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیے ٹیوب ویل (ٹوبل) استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ٹیوب ویل کا پانی عام طور پر کسانوں کو دیا جاتا ہے اور اس کے عوض کچھ نہ کچھ معاوضہ لیا جاتا ہے، جس کے جواز کے بارے میں سنا گیا ہے۔ ہمارے یہاں پانی دینے کا جو رائج طریقہ ہے، وہ یہ ہے:
ٹیوب ویل کا مالک پانی گھنٹوں یا وقت کے حساب سے فروخت نہیں کرتا، نہ ہی پانی دینے کا کوئی طے شدہ وقت یا مقدار متعین کی جاتی ہے، بلکہ ٹیوب ویل کے مالک اور زمیندار کے درمیان یہ معاہدہ ہوتا ہے کہ پورے زرعی موسم (مثلاً تین ماہ) میں فصل کو جتنی مرتبہ پانی کی ضرورت ہو (چاہے تین مرتبہ پانی کی ضرورت ہو یا چار مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ)، اور چاہے ہر دفعہ پانی دینے میں جتنا بھی وقت لگے، ٹیوب ویل کا مالک پانی فراہم کرے گا۔ اس کے بدلے میں جب فصل تیار ہو جائے تو زمیندار اپنی کل پیداوار (Total Production) کا آدھا حصہ بطور معاوضہ ٹیوب ویل کے مالک کو دے گا۔ یہ حصہ منافع نہیں بلکہ پوری فصل کا نصف ہوتا ہے۔تو سوال یہ ہے کہ:
کیا اس طرح کا معاہدہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ کیا یہ معاملہ بیع، اجارہ یا کسی اور عقد کے تحت درست شمار ہوگا یا اس میں غرر / جہالت کی وجہ سے کوئی شرعی قباحت پائی جاتی ہے؟
ٹیوب ویل سے پانی کھیتوں تک پہنچانے کے دو طریقے رائج ہیں:
1- ایک طریقہ یہ کہ پانی پہلے ایک حوض یا نالی میں آتا ہے، پھر وہاں سے آگے کھیتوں تک جاتا ہے۔
2- دوسرا طریقہ یہ کہ ٹیوب ویل کے پائپ سے براہِ راست ایک اور پائپ لگا کر کھیتوں تک پانی پہنچایا جاتا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ:
کیا پانی پہنچانے کے ان دونوں طریقوں میں شرعاً کوئی فرق ہے؟ اور کیا کسی ایک طریقے میں کوئی شرعی قباحت یا ناجائز پہلو پایا جاتا ہے یا دونوں طریقے درست ہیں؟
صورت مسئولہ میں کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیےزمیندار اور ٹیوب ویل کے مالک کا یہ معاہدہ ”پورے زرعی موسم میں ٹیوب ویل کا مالک ضرورت کے بقدر پانی فراہم کرے گا اور اس کے بدلے زمیندار اپنی آدھی پیداوار ٹیوب ویل کے مالک کو دے گا“ کرنا شرعا درست نہیں ہے۔
اس کا پہلا درست طریقہ یہ ہے کہ ٹیوب ویل کے پانی کو کسی حوض میں جمع کر لیا جائے اور اس کے بعد اس پانی کواجرت متعین کر کے بیچا جائے۔ مثلا: ثمن بیس من گندم وغیرہ مقرر کیا جائے ۔پیداوار کے نصف یاثلث وغیرہ کو ثمن مقرر کرنا درست نہیں ہو گا۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ زمیندار ٹیوب ویل کرائے پر لے لے اور ٹیوب ویل کو دینے کی مدت اور اجرت طے کر لی جائے، مثلا: یہ طے کر لیا جائے کہ تین مہینے میں دس مرتبہ تین گھنٹے کے لیے ٹیوب ویل دس من گندم کے عوض کرائے پر دیا جائے گا،پیداوار کے نصف یاثلث وغیرہ کو اجرت مقرر کرنا درست نہیں ہو گا، نیز اس دوسرے طریقے سے معاہدہ کرنے کے بعد پانی پہنچانے کے مذکورہ دونوں طریقے درست ہوں گے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وقال الرملي: إن صاحب البئر لا يملك الماء كما قدمه في البحر في كتاب الطهارة في شرح قوله: وانتفاخ حيوان عن الولوالجية فراجعه، وهذا ما دام في البئر، أما إذا أخرجه منها بالاحتيال كما في السواني فلا شك في ملكه له لحيازته له في الكيزان ثم صبه في البرك بعد حيازته. تأمل، ثم حرر الفرق بين ما في البئر وما في الجباب والصهاريج الموضوعة في البيوت لجمع ماء الشتاء بأنها أعدت لإحراز الماء فيملك ما فيها."
(كتاب البيوع، ج: 5، ص: 67، ط: دار الفکر)
فتاوی بزازیہ میں ہے:
"ولا یجوز عقدها حتى یعلم البدل والمنفعة وبیان المنفعة بأحد ثلاث: بیان الوقت وهو الأجل، وبیان العمل والمکان."
(کتاب الإجارات، الأول في المقدمة، ج: 1، ص: 415، ط: دار الکتب العلمیة)
موسوعہ فقہیہ کویتیۃ میں ہے:
"ويجب أن تكون معلومة للمتعاقدين بإشارة أو تعيين أو بيان، فلا يصح العقد بأجرة مجهولة."
(أجرة، ج: 1، ص: 330، ط: دار السلاسل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100168
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن