
خیرات کے کیا معنی ہیں اور خیرات کے مستحق کون لوگ ہیں کیا کسی ویلفیئرٹرسٹ کو دے سکتے ہیں جو ان پیسوں سے غریب مستحق افراد کی مدد کرے۔
وضاحت :خیرات سے یہاں عام صدقہ مراد ہے۔
صورتِ مسئولہ میں خیرات سے مراد اگر نفلی صدقات ہوں جیساکہ سوال میں اس امر کی صراحت موجود ہے ، تو شرعاً نفلی صدقہ ، ہبہ کے حکم میں ہوتاہے، نفلی صدقہ مستحق اور غیرمستحق دونوں طرح کے افراد کو دیا جاسکتا ہے ، نفلی صدقہ کے لیے شریعت نے کسی خاص مد یا افراد کی تخصیص نہیں کی ہے ۔
اگر کوئی ادارہ غریب افراد کی مدد کرتا ہے تو اسے نفلی صدقہ دیا جاسکتا ہے۔
البتہ زکاۃ، صدقات واجبہ کا حکم جدا ہے ، ان سے متعلق اگر دریافت کرنا ہو تو صراحت کے بعد دوبارہ معلوم کرلیا جائے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما صدقة التطوع فیجوز صرفها إلی الغنی لأنها تجري مجری الهبة".
( كتاب الزكاة، فصل شرائط ركن الزكاة، فصل الذي يرجع إلى المؤدى إليه، 2/ 48، ط: سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"ولا) تدفع (إلى ذمي) لحديث معاذ (وجاز) دفع (غيرها وغير العشر) والخراج (إليه) أي الذمي ولو واجبا كنذر وكفارة وفطرة خلافا للثاني وبقوله يفتي حاوي القدسي
فيها ومصرفه مصالح المسلمين كما مر ولذا لم يستثن في الكنز والهداية إلا الزكاة (قوله: خلافا للثاني) حيث قال إن دفع سائر الصدقات الواجبة إليه لا يجوز اعتبارا بالزكاة، وصرح في الهداية وغيرها بأن هذه رواية عن الثاني، وظاهره أن قوله المشهور كقولهما (قوله: وبقوله يفتي) الذي في حاشية الخير الرملي عن الحاوي وبقوله نأخذ."
(کتاب الزکوۃ، باب المصارف، ج نمبر ۲، ص نمبر ۳۵۱، ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708102140
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن