
میرے والد مرحوم پر کئی قسم کا کفارہ ہے جس کی مالیت تقریبا چالیس لاکھ روپے(400000) بنتی ہے(جس کی وصیت والد صاحب مرحوم نے کی تھی)والد مرحوم کےترکہ میں کچھ مکانات اور دکانیں ہیں جن کا کرایہ ایک لاکھ انتیس ہزار پانچ سو روپے(129500) آتا ہے۔
مکانات اور دکانوں میں سے کسی کو بھی کسی بھی طرح بیچنے کی کوئی صورت ممکن نہیں،کیوں کہ مذکورہ عمارت اوپر نیچے بنی ہوئی ہے اکیلے کسی کو بیچ نہیں سکتے ، مکمل بھی بیچ نہیں سکتے کیونکہ ورثاء مکانات میں رہائش پذیر ہیں ۔ اس لیے ان کا بیچنا بظاہر ناممکن ہے۔
دکانوں اور مکانات کے کرائے سے بھی کفارہ ادا نہیں کر سکتے کیوں کہ اس آمدنی سےگھر کے اکثر افراد کا خرچہ چلتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے رہنمائی فرمائیں کہ کفارہ ادا کرنے کی کوئی صورت نکل آئے۔
صورت مسئولہ میں مرحوم نے کفارات کی مد میں چالیس لاکھ روپے ادا کرنے کی جو وصیت کی ہے ،اگر مرحوم پر کوئی قرض ہو تو اس کی ادائیگی کے بعد مذکورہ وصیت اگر کل ترکہ کا ایک تہائی حصہ بنتا ہو تواس وصیت کا پورا کرنا ورثاء پر واجب ہے،اور اگر ایک تہائی سے زائد ہو تو ایک تہائی میں وصیت کا نافذ کرنا لازم ہے اس سے زائد کا ورثاء کو اختیار ہے اگر اپنی رضاو خوشی سےمکمل کر لیں تو مرحوم کے ساتھ احسان و تبرع ہو گا۔
مرحوم کی اس وصیت کو پورا کرنے کے لیے جو صورت ممکن ہو وہ اختیار کی جائے۔یا تو ترکہ میں سے کچھ فروخت کر کے وصیت پوری کریں، یا بعض ورثاء اگر دوسروں کا حصہ خرید لیں یا مرحوم کی دکانو ں میں سے کچھ فروخت کر لیا جائے۔بہر صورت جو ممکن ہو سکے اس کے موافق جلد مرحوم کی وصیت کی تکمیل لازم ہے۔
الفقہ الاسلامی و ادلتہ میں ہے:
"تنفيذ وصاياه: تنفذ الوصايا من ثلث المال الباقي لامن ثلث أصل المال بعد أداء الحقوق المتقدمة، لقوله تعالى: {من بعد وصية يوصى بها أو دين} [النساء:11/ 4]؛ لأن ما تقدم قد صرف في ضروراته التي لا بد منها، فالباقي هو مال الميت الذي أجاز له الشرع أن يتصرف في ثلثه، ولا تنفذ وصاياه فيما زاد عليه إلا بإجازة الورثة، سواء أكان الموصى له أجنبياً أم وارثاً؛ فإن أجازوا نفذت، وإن أجاز بعضهم دون بعض، نفذت في مقدار حصة المجيز دون غيره. كما لاتنفذ الوصية لوارث مطلقاً إلا بإجازة الورثة، سواء أكانت أقل من الثلث أم أكثر."
(الباب السادس: الميراث، الفصل السادس: الحقوق المتعلقة بتركة الميت،ج: 10،ص: 7733، ط: دار الفكر)
بدائع الصنائع میں ہے:
"فإن قال الموصي أحجوا عنى بثلث مالي، وثلث ماله يبلغ حججا حج عنه حججا كذا روى القدوري في شرحه مختصر الكرخي ......ثم الوصي بالخيار إن شاء أحج عنه الحجج في سنة واحدة، وإن شاء أحج عنه في كل سنة واحدة، والأفضل أن يكون في سنة واحدة؛ لأن فيه تعجيل تنفيذ الوصية، والتعجيل في هذا أفضل من التأخير."
(کتاب الحج ،فصل فی سبب وجوب الحج،ج: 2، ص: 223، دار الکتب العلمية)
احکام میت میں ہے:
''ایک بڑی بے احتیاطی یہ ہو رہی ہے کہ میت کی جائز وصیت کی پرواہ نہیں کی جاتی،حالانکہ جہاں تک شرع نے وصیت کا اختیار دیا ہے، یعنی ایک تہائی ترکہ تک وہ اس کی ملک ہے،وصیت کرنے کے بعد کسی کو اس میں مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے،اگر اس میں مرحوم کی خلاف ورزی کر کے اس کی جائز وصیت پوری نہ کی ،تو اس کی حق تلفی ہو گی اور حق العبد رہ جائے گا،اس لیے بڑے فکر اور اہتمام سے میت کی وصیت پوری کرنی چاہیئے، اگر مرحوم نے کسی ناجائز کام میں خرچ کرنے کی وصیت کی ہوتو اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے۔''
(باب ہفتم،ص:312،ط:ادارہ الفاروق کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101471
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن