بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1441ھ- 09 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

کے ایف سی (kfc) کھانا اور اس میں ملازمت کا حکم


سوال

کے ایف سی کا کھانا کھانا حلال ہے یا حرام ہے؟ اور اس پر نوکری کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ  جگہ کے کھانے کے حلال یا حرام ہونے کا مدار کھانے کی تیاری میں شامل تمام اجزاء کے حلال یا حرام ہونے پر ہے، پس اگر مذکورہ  ادارہ مغربی ممالک سے  درآمد شدہ  ایسی مرغی استعمال کرتا ہو جو شرعی اصولوں کے مطابق ذبح نہ کی گئی ہو یا  ریسیپی میں شامل مصالحہ جات میں شامل اجزاء خصوصاً چیز (پنیر) حلال نہ ہو تو اس ادارے کی اشیاء کھانا حلال نہ ہوگا، اور نہ ہی اس میں ملازمت کی تنخواہ کلی طور پر حلال ہوگی۔ البتہ اگر مذکورہ ریسٹورنٹ میں جو گوشت اور مصالحہ جات وغیرہ کھلایا جاتا ہے وہ مقامی طور پاکستان میں پاک اجزاء سے حلال طریقے سے  تیار کیا جاتا ہو تو ان ریسٹورنٹ میں تیار کردہ کھانے کی اور اس میں ملازمت کی شرعاً گنجائش ہوگی۔ تسلی بخش تحقیق میسر نہ ہو تو اجتناب کرنا بہتر ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111201686

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں