
ہمارے والد صاحب نے والدہ کے انتقال کے بعد، ہماری رضامندی سے دوسری شادی کی۔ لیکن شادی کے صرف تین ماہ بعد ہی والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ والد مرحوم کی وفات کے تیسرے دن ہی اُن کی دوسری بیوی اپنے بھائی کے گھر چلی گئیں۔ انہوں نے نہ عدت پوری کی، نہ پردے کا لحاظ کیا، اور تقریباً ایک سال بعد دوسری شادی کر لی۔ ان کے بطن سے کوئی اولاد نہیں تھی۔
اب والد صاحب کی ملکیت میں ایک مکان موجود ہے، جسے ہم فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ والد مرحوم کے ورثاء میں ایک بیوہ، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں،دادا دادی کا انتقال پہلے ہوچکا تھا۔
ہمیں شرعی طور پر یہ جاننا ہے کہ:میراث کی مکمل شرعی تقسیم کس طرح ہوگی؟
والد صاحب کی میراث میں دوسری بیوی کا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟
اگر بنتا ہے، تو اس کا شرعی حصہ کتنا ہوگا؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ:
میں گیارہویں شریف کا میلاد کرتی ہوں جس میں خواتین بھی پڑھنے کے لیے شرکت کرتی ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ گناہ ہے؛کیوں کہ ان کی آواز غیر محرم تک جاتی ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت اپنے مردوں کے ساتھ آتی ہے۔ براہِ کرم اس حوالے سے شرعی راہ نمائی فرمائیں!
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ مکان سمیت والد مرحوم کے تمام ترکہ میں بیوہ (آپ کی سوتیلی والدہ) کا بھی شرعی حصہ ہے، بیوہ کے مرحوم شوہر کے گھر عدت نہ گزارنے یا عدت کے بعد دوسری جگہ شادی کرلینے سے اس کا میراث میں حصہ ساقط نہیں ہوگیا، ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگرمرحوم پر کوئی قرضہ ہو اس کو کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو اس کو ایک تہائی ترکہ سے نافذ کرنے کے بعد، باقی کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 32 حصوں میں تقسیم کرکے چار حصے مرحوم کی بیوہ (آپ کی سوتیلی والدہ) کو، 14 حصے مرحوم کے بیٹے کو اور سات حصے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔
صورتِ تقسیم یہ ہے :
32/8
| بیوہ | بیٹا | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 7 | ||
| 4 | 14 | 7 | 7 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے 12.5فیصد مرحوم کی بیوہ کو ،43.75فیصد مرحوم کے بیٹے کو،21.875فیصد مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔
2-مروجہ گیارہویں شریف کی رسم بدعت ہے، لہذا اس سے اجتناب کیا جائے۔
کفایت المفتی میں ہے:
" گیارہویں کی نیاز سے اگر مقصود ایصالِ ثواب ہے تو اس کے لیے گیارہویں تاریخ کی تعیین شرعی نہیں۔ نیز حضرت غوث الاعظمکی (کوئی) تخصیص نہیں۔ تمام اولیاء ِکراماور صحابہٴ عظام اس کے مستحق ہیں۔ سال کے جن دنوں میں میسر ہو اور جو کچھ میسر ہو، اور جو کچھ صدقہ کر دیا جائے، اور اس کا ثواب بزرگانِ دین اور امواتِ مسلمین کو بخش دیا جائے۔ فقراء اس کھانے کو کھا سکتے ہیں، امراء اور صاحبِ نصاب نہیں کھا سکتے۔"
(ساتواں باب،فصل چہارم، ج:1، ص:167،ط:دار الاشاعت)
وفیہ ایضاً:
"گیارہویں کا حکم بھی یہی ہے کہ نام اور تعینِ تاریخ بدعت ہے، شریعتِ مقدسہ نے ایصالِ ثواب کے لیے کسی دن اور تاریخ کو معین یا لازم نہیں کیا"
(کتاب الحظر والاباحت،ج:9،ص:71،ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100421
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن