بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا ولیمے یا شادی کے دیگر اخراجات مہر سے منہا کئے جا سکتے ہیں؟


سوال

میری بیٹی کی شادی ہوئی۔ نکاح کے وقت لڑکے نے سات تولہ سونا بطور مہر مقرر کیا، جس میں سے دو تولہ سونا نقد ادا کیا گیا، جبکہ پانچ تولہ سونا اور دو مرلہ زمین مؤجل (بعد میں ادا کرنے کے وعدے کے ساتھ) تھی۔ لڑکے نے صرف دو تولہ سونا ادا کیا ہے۔

اب وہ طلاق دے کر میری بیٹی کو چھوڑنا چاہتا ہے۔ اس کا اور اس کے اہلِ خانہ کا مؤقف ہے کہ ولیمے، رشتہ داروں کے آنے جانے، اور شادی سے قبل کی رسومات پر جو اخراجات انہوں نے برداشت کیے ہیں، وہ مہر میں سے منہا کیے جائیں گے، اور باقی ماندہ مہر اسی حساب سے ادا کیا جائے گا۔

کیا لڑکے اور اس کے اہلِ خانہ کا یہ مؤقف شرعی  طور پر درست ہے کہ وہ شادی کے اخراجات کو مہر میں سے منہا کر کے بقیہ مہر ادا کریں؟

جواب

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں نکاح کے وقت جو مہر مقرر کیا جاتا ہے، اس کی ادائیگی شوہر پر واجب ہوتی ہے۔ مہر صرف اور صرف بیوی کا حق ہے، اس میں کسی اور کا کوئی حق یا دخل نہیں ہوتا۔ ولیمہ، شادی کے دیگر  اخراجات شوہر کی ذمہ داری میں شامل ہیں، اور انہیں مہر سے منہا کرنا شرعاً جائز نہیں۔

لہٰذا، صورتِ مسئولہ میں مقررہ مہر کا بقیہ حصہ مکمل طور پر بیوی کا حق ہے۔ شوہر یا اس کے اہلِ خانہ کا یہ مؤقف کہ ولیمے یا دیگر اخراجات مہر میں سے منہا کیے جائیں، شرعی طور پر جائز  نہیں۔لہذا اب  اگر شوہر طلاق دیتا ہے تو اس پر شرعاً  لازم ہے کہ وہ بیوی کو مکمل بقیہ مہر ادا کرے، بغیر کسی کٹوتی کے۔

بخاری شریف میں ہے:
"حدثنا علي: حدثنا سفيان قال: حدثني حميد: أنه سمع أنسا رضي الله عنه قال: «سأل النبي صلى الله عليه وسلم عبد الرحمن بن عوف، وتزوج امرأة من الأنصار، كم أصدقتها؟ قال: وزن نواة من ذهب» وعن حميد: سمعت أنسا قال: لما قدموا المدينة نزل المهاجرون على الأنصار، فنزل عبد الرحمن بن عوف على سعد بن الربيع، فقال: أقاسمك مالي وأنزل لك عن إحدى امرأتي، قال: بارك الله لك في أهلك ومالك، فخرج إلى السوق فباع واشترى، فأصاب شيئا من أقط وسمن، فتزوج فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أولم ولو بشاة."

(کتاب النکاح، باب الولیمۃ حق، ج:7، ص:24، ط:السلطانية، بالمطبعة الكبرى الأميرية، ببولاق مصر،)

فتاوی شامی میں ہے:

"بأنه اسم للمال الذي يجب في عقد النكاح على الزوج في مقابلة البضع إما بالتسمية أو بالعقد، واعترض بعدم شموله للواجب بالوطء بشبهة ومن ثم عرفه بعضهم بأنه اسم لما تستحقه المرأة بعقد النكاح أو الوطء وأجاب في النهر بأن المعروف مهر هو حكم النكاح بالعقد تأمل"

(کتاب النکاح، باب المهر، ج:3، ص:101، ط:سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"ثم المهر واجب شرعا إبانة لشرف المحل فلا يحتاج إلى ذكره لصحة النكاح،"

(کتاب النکاح، باب المھر، ج:3، ص:152، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"المهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراءمن صاحب الحق، كذا في البدائع."

(كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، الفصل الثاني فيمايتاكد به المهر، ج: 1، ص: 304، ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100297

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں