بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 ذو الحجة 1447ھ 13 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پوتے کی بیوی کو حق مہر میں مکان دینے سے کیا مکان بہو کا ہوجائے گا،یا قبضہ دینا بھی ضروری ہوگا؟


سوال

ایک عورت کا نکاح 1988ء میں ہوا تھا۔ نکاح کے وقت اس عورت کے دادا سسر، سسر اور شوہر نے باہمی رضامندی سے اسے حق مہر کے طور پر ایک متعین مکان دیا، جو دراصل دادا سسر کی ملکیت تھا۔ نکاح نامے پر تینوں کے دستخط اور انگوٹھوں کے نشان موجود ہیں، اور مکان کی مکمل حدود و اَربعہ بھی نکاح نامے میں واضح طور پر درج ہیں۔

اب چونکہ دادا سسر کا انتقال ہو چکا ہے، تو سوال یہ ہے کہ:

کیا ان کے انتقال کے بعد وہ مکان عورت کی اجازت کے بغیر درج ذیل صورتوں میں کسی کو دیا جا سکتا ہے؟

  1. کیا وہ مکان فروخت کیا جا سکتا ہے؟

  2. کیا وہ مکان کسی کو ہبہ (گفٹ) کیا جا سکتا ہے؟

  3. کیا وہ مکان تقسیم کیا جا سکتا ہے؟

  4. کیا وہ مکان کسی اور کے لیے مخصوص یا خاص کیا جا سکتا ہے؟

تنقیح :مستفتی سے معلوم کرنے پر معلوم ہوا کہ دادا  سسر نے مذکورہ مکان کا قبضہ مذکورہ خاتون کو نہیں دیا تھا،بلکہ اس نکاح سے پہلے بھی اسی مکان میں رہائش پذیر تھے ،اور اس کے بعد بھی اسی میں رہتے تھے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی دادا سسر نے اپنے پوتے کی بیوی کو حق مہر کے طور پر اپنا ذاتی مکان تحریری طور پر دیا تھا اور نکاح نامے میں اپنے دستخط اور انگوٹھے کے ساتھ اس کی تصدیق بھی کر دی تھی،اگر دادا سسر مکان کا قبضہ اپنی پوتی بہو کو دے دیتے تو یہ مکان پوتی بہو کا ہوجاتا،لیکن انہوں نے  اپنی موت تک اس مکان کا قبضہ مذکورہ خاتون کو نہیں دیا تھا، تو وہ مکان دادا سسر کی ملکیت ہی رہا اور ان کے انتقال کے بعد ان کے ورثاء میں شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔

تاہم چونکہ نکاح کے وقت حق مہر کے طور پر یہی مکان طے پایا تھا، اس لیے مذکورہ خاتون کے  شوہر  پر لازم ہے کہ یا تو تمام ورثاء سے مکان خرید کر اپنی بیوی کو حق مہر کے طور پر دے، یا اگر مکان خریدنا ممکن نہ ہوا تو مکان کی موجودہ قیمت اپنی بیوی کو حق مہر کے طور پر ادا کرے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ولو تزوجها على عبد الغير أو على عبد نفسه ثم استحق تجب قيمة العبد إن لم يجز المستحق ولو وصل العبد إليه بسبب قبل القضاء عليه بالقيمة يؤمر بتسليم عينه، كذا في العتابية."

(کتاب النکاح، باب ھلاک المھر واستحقاقہ، ج: 1، ص: 316، ط:دار الفکر بیروت)

فتاوی شامی میں ہے :

"(قوله: وصح ضمان الولي مهرها) أي سواء ولي الزوج أو الزوجة صغيرين كانا أو كبيرين، أما ضمان ولي الكبير منهما فظاهر لأنه كالأجنبي. ثم إن كان بأمره رجع وإلا لا."

(کتاب النکاح، باب المھر، ج:3، ص:140، ط:سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"ولو أعطى ضيعة بمهر امرأة ابنه ولم تقبضها حتى مات الأب فباعتها المرأة لم يصح إذا ضمن الأب المهر ثم أعطى الضيعة به فحينئذ لا حاجة إلى القبض."

(كتاب النكاح، مطلب في ضمان الولي المهر، ج:282،ص:4، سعید)

وفيه أيضاً:

"لأن المهر مال يلزم ذمة الزوج ولا يلزم الأب بالعقد إذ لو لزمه لما أفاد الضمان شيئاً."

(كتاب النكاح، مطلب في ضمان الولي المهر،ج:282،ص:4، سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100619

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں