بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 ذو الحجة 1447ھ 13 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا قرض پر دی ہوئی رقم بھی نصاب قربانی میں شامل ہے؟


سوال

میرے ماموں کے پاس ڈھائی لاکھ روپے ہیں ۔نیز ان کا کسی شخص پر دو لاکھ روپے قرضہ ہے، اور وہ شخص ماہانہ حساب سے 15000روپے قرضہ دیتا رہتا ہے۔کیا میرے ماموں پرقربانی واجب ہوگی یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں  سائل کے ماموں کے پاس ڈھائی لاکھ روپے اور دولاکھ کا قرضہ ملا کر  ساڑھے باون تولہ  چاندی کی قیمت کے برابربن جاتے ہیں تو ان پر قربانی واجب ہوگی،ورنہ نہیں ہوگی۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ومنها الغنى لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «من وجد سعة فليضح» شرط عليه الصلاة والسلام السعة وهي الغنى ولأنا أوجبناها بمطلق المال ومن الجائز أن يستغرق الواجب جميع ماله فيؤدي إلى الحرج فلا بد من اعتبار الغنى وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه وما لا يستغني عنه وهو نصاب صدقة الفطر، وقد ذكرناه وما يتصل به من المسائل في صدقة الفطر."

(کتاب التضحیة، فصل فی شرائط وجوب الأضحیة، ج:5، ص:64، ط:مطبعة الجمالية بمصر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100731

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں