بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا موبائل کو نقد میں خرید کر قسطوں پر بیچ سکتے ہیں؟


سوال

میرا ایک دوست انور بھائی ہے ، وہ دکانو ں سے نقد رقم دے کر موبائل خریدتا ہے ،اور پھر آگے لوگوں کو ادھار قسطوں میں  فروخت کرتا ہے ،کیا یہ جائز ہے ؟کیا ادھار فروخت کرنے کی وجہ سے رقم بڑھاکر قسطوں میں بیچ سکتے ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص اگر موبائل نقد یا ادھار میں خرید کر قبضہ کرنے کے بعد  دوسروں کو قسطوں پر فروخت کرتے وقت درج ذیل شرائط کی پابندی کرتا ہو تو پھر اس کا یہ سودا جائز ہوگا ۔البتہ اگر ان میں سے کسی ایک شرط کی پاسداری اگر نہ کرتا ہو ،تو پھر مذکورہ بیع جائز نہیں ہوگی ۔

مذکورہ چند شرائط یہ ہیں کہ:

1-معاملہ متعین ہو کہ نقد کا معاملہ کیا جارہا ہے یا ادھار۔

2-اسی طرح  موبائل کی مجموعی قیمت  بھی متعین ہو۔

3-تمام قسطیں  بھی متعین کرنا ضروری ہے ،اور ہر قسط میں رقم کی مقدار بھی مقرر کرنا ضروری ہے۔

4-تمام قسطوں کی ادائیگی کا وقت بھی مقرر کرنا ضروری ہے،مثلاً تین مہینے کی مدت ہے وغیرہ۔

5-کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت  جرمانہ یا کسی بھی عنوان سے  اس  میں اضافہ   وصول نہ کیا جائے ۔

6-اسی طرح قسط کی رقم مقرر مدت میں  وصول نہ ہونے کی صورت میں جمع شدہ رقم اور مذکورہ چیز کو ضبط   کرنے کی شرط نہ ہو ۔

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"(المادة 245) البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح

(المادة 246) يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط

(المادة 247) إذا عقد البيع على تأجيل الثمن إلى كذا يوما أو شهرا أو سنة أو إلى وقت معلوم عند العاقدين كيوم قاسم أو النيروز صح البيع"

(الفصل الثانی : فی بیان المسائل المتعلقۃ بالنسیئۃ والتاجیل، ص:50 ،ط:كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي)

تفسیر کبیر میں ہے:

"كان الرجل في الجاهلية إذا كان له على إنسان مائة درهم إلى أجل، فإذا جاء الأجل ولم يكن المديون واجدا لذلك المال قال زد في المال حتى أزيد في الأجل فربما جعله مائتين، ثم إذا حل الأجل الثاني فعل مثل ذلك، ثم إلى آجال كثيرة، فيأخذ بسبب تلك المائة أضعافها فهذا هو المراد من قوله: أضعافا مضاعفة."

(سورۃ آل عمران، ج:9 ، ص:363، ط: دار إحياء التراث العربي - بيروت)

البحر الرائق میں ہے :

"‌ويزاد ‌في ‌الثمن ‌لأجله إذا ذكر الأجل بمقابلة زيادة الثمن قصدا".

(باب المرابحة و التولیة، ج:6، ص:125، ط: دارالکتاب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے :

"وفي شرح الآثار: ‌التعزير ‌بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال".

(کتاب الحدود، باب التعزیر، ج: 4، ص: 62، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100855

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں