
میری عمر ستائیس سال ہے۔ میں ایک خلع یافتہ خاتون ہوں، اور تقریباً چار سال قبل میری خلع ہوئی تھی۔ میں ایک لڑکے کو پسند کرتی ہوں، اور ہم دونوں خاندان کی رضامندی کے ساتھ نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ وہ میرے گھر رشتہ بھیجنا چاہتا ہے، لیکن میرے والد اسے رشتہ بھیجنے کی اجازت نہیں دیتے۔
میرے والد کا کہنا ہے کہ جس شخص کو وہ نہیں جانتے اور نہ ہی زندگی میں کبھی دیکھا ہے، اس کے ساتھ وہ اپنی بیٹی کا رشتہ نہیں کر سکتے۔ حالاں کہ وہ لڑکا ہر بات ماننے کے لیے تیار ہے، اور کہتا ہے کہ آپ کے والد صاحب نکاح کے حوالے سے جو چاہیں شرط رکھ لیں، پھر نکاح کروا دیں۔ اس نے میرے بڑے بھائی سے بھی بات کی اور کہا کہ میں نکاح کرنا چاہتا ہوں، اور آپ کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔
میں نے اس معاملے میں خود بھی استخارہ کیا، اور دو بڑے علمائے دین سے بھی استخارہ کروایا، جنہوں نے بھی مثبت جواب دیا۔ میں دلی طور پر اس رشتے کے لیے راضی ہوں اور اپنی خوشی سے اس سے نکاح کرنا چاہتی ہوں، لیکن میرے والد بالکل راضی نہیں ہیں۔
میں نے اپنے والد سے یہ بھی کہا کہ اگر میرا نکاح یہاں نہیں ہوتا تو میں کہیں اور نکاح نہیں کرنا چاہتی، بلکہ اسی گھر میں رہوں گی اور آپ کو کبھی میری طرف سے شکایت کا موقع نہیں ملے گا، لیکن اس بات پر بھی وہ راضی نہیں ہوئے۔
میں نے یہ بات اس وجہ سے کہی کہ ماضی میں بھی رشتے پر میں دلی طور پر راضی نہیں تھی۔ اگرچہ میرے والد نے مجھ پر زبردستی نہیں کی تھی، لیکن میں نے احتراماً وہ رشتہ قبول کر لیا تھا۔ بعد میں مجھے افسوس ہوتا رہا کہ میں نے جذبات میں آکر غلط فیصلہ کر لیا۔ پھر حالات ایسے پیدا ہوئے کہ آخرکار مجھے خلع لینی پڑی۔اب میں دوبارہ ایسا نکاح نہیں کرنا چاہتی جس پر میرا دل راضی نہ ہو۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنی پسند سے نکاح نہیں کر سکتی؟ اور اگر میرے والد دلی طور پر راضی نہ ہوں تو کیا میں اپنی زندگی والد کے گھر ہی گزار سکتی ہوں؟
شریعتِ مطہرہ میں نامحرم لڑکے کا لڑکی سے اور لڑکی کا لڑکے سے تعلق اور محبت جائز نہیں ہے، یہ شیطان کا وار ہوتا ہے، اس کی ابتدا اپنے اختیار سے ہوتی ہے، اسی لیے قرآن مجید میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ نامحرموں کو دیکھنے سے اپنے نظر جھکالیں، اور احادیثِ مبارکہ میں جا بجا نظروں کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے، اور نظروں کو شیطان کے تیروں میں سے کہا گیا ہے، اور بد نظری کو آنکھوں کا زنا کہا گیا ہے، غرض یہ ہے کہ شریعت نامحرم سے تعلقات کی بالکل اجازت نہیں دیتی اور اس نے اس کے سدباب کے لیے حفاظتی تدابیر کا بھی حکم دیا ہے۔
نیز جس طرح اولاد کے ذمے والدین کی مرضی اور خواہش کی رعایت رکھنا لازم ہے اسی طرح والدین کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ اولاد کے نکاح کے وقت اپنی اولاد کی پسند کا خیال رکھیں اور ان سے ان کی رائے معلوم کریں، لہذا اگر والدین کو اس بات کا غالب گمان ہے کہ رشتہ اچھا ہے تو وہ شادی کرلیں، کسی خاص وجہ کے بغیر شادی کرانے سے انکار کرنا درست نہیں۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں والدین کو چاہیے کہ لڑکے کے بارے میں مزید تحقیق کریں، صرف نہ جاننے اور زندگی میں نہ دیکھنے کی بنا پر رشتے سے انکار نہ کریں۔ پھر اگر کفو میں کوئی تفاوت نظر نہ آئے اور لڑکا مناسب معلوم ہو تو رشتہ کر دیں، اور اگر کوئی تفاوت معلوم ہو یا مناسب نہ سمجھیں تو لڑکی کو والدین کی بات مان لینی چاہیے اور لڑکے سے تعلق ختم کر لینا چاہیے، صرف اس وجہ سے زندگی بھر شادی نہ کرنا کہ والدین نے پسند کی جگہ شادی نہیں کی، درست نہیں ۔ اس کے بعد والدین ایسا رشتہ تلاش کریں جو بیٹی کو بھی پسند ہو،البتہ اگر بالغہ بیٹی کی ناپسندی کے باوجود والدین اس کی شادی کروا دیں تو وہ شادی نافذ نہیں ہوتی، بلکہ بیٹی کی رضا پر موقوف رہتی ہے۔
نیز لڑکی کی پسند کے مطابق شادی ہونے تک اس کے تمام اخراجات، بقدرِ استطاعت، والد کے ذمہ ہوں گے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ (فإن استأذنها هو) أي الولي وهو السنة (أو وكيله أو رسوله أو زوجها) وليها وأخبرها رسوله أو الفضولي عدل (فسكتت) عن رده مختارة (أو ضحكت غير مستهزئة أو تبسمت أو بكت بلا صوت) فلو بصوت لم يكن إذنا ولا ردا حتى لو رضيت بعده انعقد سراج وغيره، فما في الوقاية والملتقى فيه نظر (فهو إذن)".... وفی الرد:(قوله وهو السنة) بأن يقول لها قبل النكاح:فلان يخطبك أويذكرك فسكتت، وإن زوجها بغير استئمار فقد أخطأ السنة وتوقف على رضاها،بحر عن المحيط".
(کتاب النکاح،باب الولی،ج:3، ص:58، ط:سعید)
وفیہ ایضا:
"(وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقا وزمن.
(قوله كأنثى مطلقا) أي ولو لم يكن بها زمانة تمنعها عن الكسب فمجرد الأنوثة عجز إلا إذا كان لها زوج فنفقتها عليه ما دامت زوجة وهل إذا نشزت عن طاعته تجب لها النفقة على أبيها محل تردد فتأمل، وتقدم أنه ليس للأب أن يؤجرها في عمل أو خدمة، وأنه لو كان لها كسب لا تجب عليه."
(کتاب الطلاق، باب النفقة، ج:3، ص:614، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712101024
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن