بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا کسی غیر مسلم کا مسلمان کے جنازے میں شرکت کرنا اور کندھا دینا صحیح ہے یا نہیں؟


سوال

 کیا کسی کافر شخص کا مسلمان کے جنازے میں شرکت کرنا اور کندھا دینا صحیح ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی غیر مسلم کسی مسلمان کے جنازے میں شریک ہو جائے اور یا جاتے ہوئے کندھا دے تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔

البتہ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی غیر مسلم کے جنازے میں شریک ہو، یا اس کی تدفین یا دیگر مذہبی رسومات میں حصہ لے۔

قرآن مجید میں ہے:

"ولا تصل على احد منھم مات ابدا ولا تقم على قبرہ۔ (التوبھ۔84)"

ترجمہ:”ان میں سے کوئی مر جائے تو اس کے جنازے کی ہر گز نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑا ہونا۔“ ( بیان القرآن)

تفسیر روح المعانی میں ہے:

"والمراد: لا تقف عند قبرہ للدفن او للزیارۃ."وفي جواز زيارة قبر الكفار خلاف وكثير من القائلين بعدم الجواز حمل القيام على ما يعم الزيارة ومن أجاز استدلبقوله صلى الله عليه وسلم: «كنت نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها فإنها تذكركم الآخرة»فإنه عليه الصلاة والسلام علل الزيارة بتذكير الآخرة ولا فرق في ذلك بين زيارة قبور المسلمين وقبور غيرهم، وتمام البحث في موضعه والاحتياط عندي عدم زيارة قبور الكفار إنهم كفروا بالله ورسوله جملة مستأنفة سيقت لتعليل النهي على معنى أن الصلاة على الميت والاحتفال به إنما يكون لحرمته وهم بمعزل عن ذلك لأنهم استمروا على الكفر بالله تعالى ورسوله صلى الله عليه وسلم مدة حياتهم وماتوا وهم فاسقون أي متمردون في الكفر خارجون عن حدوده."

(سورۃ التوبة،  ج:5، ص:343، ط:دار الكتب العلمية - بيروت)

فتاوی  محمودیہ میں ہے:

”۔۔۔ ہندو لوگ جو کہ ہمارے مردے کے ساتھ قبر پر جاتے ہیں اور مٹی دیتے ہیں، ان کے لیے بھی اور ہمارے لیے بھی علمائے دین کیا فرماتے ہیں اور کیا حکم ہے؟

جواب: ۔۔۔ ان کو منع نہ کریں۔“

  (کتاب الصلاۃ، باب الجنائز 9 / 40 و 41 ط: فاروقیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100967

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں