بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا ”اعوان“ سادات میں شامل ہیں؟


سوال

کیا اعوان میاں سید قوم میں شامل ہےیا نہیں نیز یہ بتائیں کہ سید قوم میں کون کون شامل ہے؟

جواب

 اگر اعوان برادری کا سلسلہٴ نسب بہ واسطہ محمد بن الحنفیہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ تک پہنچتا ہے (جیسا کہ مشہور ہے) اور اعوان برادری کے پاس اس سلسلہ میں مستند شجرہٴ نسب بھی موجود ہو تو یہ برادری سادات سے شمار ہوگی اوراگر یہ محض سنی سنائی یا مشہور کی ہوئی بات ہے تو ایسی صورت میں اعوان برادری کے اہل علم حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنی برادری کے متعلق تحقیق کریں کہ یہ برادری واقعتاً سادات سے ہے یا نہیں؟

نیز ابتدائی عہد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ، حضرت جعفر رضی اللہ عنہ، حضرت عقیل رضی اللہ عنہ کی اولاد اور ان کی نسل کو ’’سید‘‘  کہا جاتا تھا،  لیکن بعد میں یہ اصطلاح خاص ہوگئی، چناں چہ ہمارے عرف میں ’’سید‘‘  صرف وہ گھرانے  ہیں  جو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے صاحب زادگان حضرت حسن و حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی اولاد سے ہوں، ان ہی کا لقب  ’’سید‘‘ ہے، اور یہ  ان کی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبی نسبت کی علامت ہے؛ لہٰذا صرف حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی نسل سے آنے والے گھرانوں کو  ’’سید‘‘ کہنا چاہیے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا یدفع إلی بني هاشم وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقیل وآل الحارث بن عبد المطلب کذا فی الھدایة، ویجوز الدفع إلی من عداهم کذریة أبي لھب؛ لأنھم لم یناصروا النبي صلی اللہ علیه وسلم، کذا فی السراج الوهاج."

(کتاب الزکاة، الباب السابع في المصارف، ج:1: ص: 189، ط: المکتبة الحقانیة)

الحاوی للفتاوی میں ہے:

"إن اسم الشريف كان يطلق في الصدر الأول على كل من كان من أهل البيت سواء كان حسنيًا أم حسينيًا أم علويًا، من ذرية محمد بن الحنفية وغيره من أولاد علي بن أبي طالب، أم جعفريًا أم عقيليًا أم عباسيًا، ولهذا تجد تاريخ الحافظ الذهبي مشحونًا في التراجم بذلك يقول: الشريف العباسي، الشريف العقيلي، الشريف الجعفري، الشريف الزينبي، فلما ولي الخلفاء الفاطميون بمصر قصروا اسم الشريف على ذرية الحسن والحسين فقط، فاستمر ذلك بمصر إلى الآن، وقال الحافظ ابن حجر في كتاب الألقاب: الشريف ببغداد لقب لكل عباسي، وبمصر لقب لكل علوي، انتهى.
ولا شك أن المصطلح القديم أولى وهو إطلاقه على كل علوي وجعفري وعقيلي وعباسي، كما صنعه الذهبي، وكما أشار إليه الماوردي من أصحابنا."

(کتاب الأدب والرقائق، ج:2، ص:39، ط:دار الفكر)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101676

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں