
میں کروشیا کی کی چین بنا کر اسے فروخت کرتی ہوں، جس میں ٹرٹلز اور دل جن پر آنکھیں وغیرہ بنی ہوئی ہوتی ہیں۔ اسلام میں اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ کیا میں یہ سب بغیر آنکھوں کے بنا سکتی ہوں یا ایسا کچھ بھی بنانا جائز نہیں ہے؟ شریعت کی رو سے میری رہنمائی فرمائیں۔
واضح رہے کہ جان دار کی تصویر میں اگر اس طرح کا تصرف کردیا جائے کہ دیکھنے کے بعد جان دار کی تصویر معلوم نہ ہوتی ہو (مثلًا تصویر میں سر یا چہرہ مکمل طور پر ہٹا دیا جائے) تو وہ حرام تصویر کے زمرے سے نکل جاتی ہے، لیکن اگرتصویر میں جان دار کی حکایت ہورہی ہو تو وہ پھر بھی حرام تصویر ہی رہتی ہے، اور ایسی تصویر بنانا جائز نہیں ہوتی۔
اسی طرح جن اشیاء پر جاندار کی تصاویر ہوں، ان کی خرید و فروخت کا یہ حکم ہے کہ اگران اشیاء کی خرید و فروخت جاندار کی تصاویر کی وجہ سے کی جاتی ہے، تو ایسی اشیاء کی خرید و فروخت ناجائز ہے، اور ان سے حاصل ہونے والے منافع بھی حلال نہیں ہوں گے، اور اگر ایسی اشیاء کی خرید و فروخت جاندار کی تصویر کی وجہ سے نہیں کی جاتی، بلکہ اسی چیز کی وجہ سے کی جاتی ہے تو اس کی خرید و فروخت جائز ہے، اور ان سے حاصل ہونے والے منافع بھی حلال ہوں گے۔
لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ اگر ایسے کی چین بناتی ہیں جس میں کوئی جاندار کی تصویر ہو، یا دل وغیرہ کی تصویر میں آنکھیں بنائی گئی ہوں، تو سائلہ کے لیے ایسا کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا، البتہ اگر سائلہ کی چین میں صرف دل وغیرہ کی تصویریں بنائے، اور اس میں آنکھوں کو ظاہر نہ کرے، تو سائلہ کے لیے ایسے کیچین بنانا اور اسے فروخت کرنا شرعاً جائز ہوگا۔
نیز چونکہ کی چین کی خرید و فروخت میں مقصود تصاویر نہیں ہیں، تو سائلہ کے لیے مذکورہ دونوں صورتوں میں کیچین فروخت کرنے کے بدلے میں حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہوگی۔
صحيح مسلم ميں ہے:
"عن مسروق، عن عبد الله. قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم (أن أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون)."
(کتاب اللباس و الزینة، باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان، ج: 2، ص: 201، ط: سعید)
ترجمہ:
"حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: بے شک قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اُن لوگوں کو دیا جائے گا جو جانداروں کی تصویریں بناتے ہیں۔"
فتاوی شامی میں ہے:
"(أو مقطوعة الرأس أو الوجه)....(قوله أو مقطوعة الرأس) أي سواء كان من الأصل أو كان لها رأس ومحي، وسواء كان القطع بخيط خيط على جميع الرأس حتى لم يبق له أثر، أو بطليه بمغرة أو بنحته، أو بغسله لأنها لا تعبد بدون الرأس عادة وأما قطع الرأس عن الجسد بخيط مع بقاء الرأس على حاله فلا ينفي الكراهة لأن من الطيور ما هو مطوق فلا يتحقق القطع بذلك، وقيد بالرأس لأنه لا اعتبار بإزالة الحاجبين أو العينين لأنها تعبد بدونها وكذا لا اعتبار بقطع اليدين أو الرجلين."
(کتاب الصلوۃ، باب ما یفسد الصلوۃ و ما یکرہ فیھا، ج: 1، ص: 648، ط: سعید)
کفایت المفتی میں ہے:
"بچوں کے کھلونوں کی تجارت کا حکم:
تصویروں کا خریدنا بیچنا ناجائز ہے خواہ وہ چھوٹی ہوں یا بڑی اور بچوں کے کھیلنے کی ہوں، یا اور کسی غرض کے لیے ،البتہ ایسی اشیاءجن میں تصویر کا بیچنا خریدنا مقصود نہ ہو ،جیسے دیا سلائی کے بکس کہ ان پر تصویر بنی ہوتی ہے،مگر تصویر کی بیع و شراءمقصود نہیں ہوتی تو ایسی چیزوں کا خریدنا بیچنا مباح ہو سکتا ہے.....۔"
(کتاب الحظر والاباحۃ، ج:9 ،ص: 235، ط: دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801100813
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن