بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 صفر 1448ھ 20 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

کچی آبادی میں واٹر بورڈ کی لائن سے براہِ راست کنکشن لینے اور اس کے بل کا شرعی حل


سوال

 ہم کراچی کے ایک کچے علاقے (یعنی غیر لیز شدہ جگہ) میں کاروبار کرتے ہیں۔ وہاں ہماری دکان کے سامنے سے پانی کا پائپ گزرا ہوا ہے، جس سے ہم نے 20 سال پہلے کنکشن لیا ہوا تھا۔ اب مجھے یہ شک ہو رہا ہے کہ اس طرح پانی کا استعمال ناجائز ہوگا۔

ہمارے علاقے میں کچھ مقامی علماء کی بھی وہاں دکانیں ہیں، میں نے ان سے اس حوالے سے بات کی تو وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم مجبور ہیں، کیوں کہ واٹر بورڈ والے قانونی کنکشن لگا کر نہیں دے رہے۔ براہِ مہربانی آپ اس مسئلے کا کوئی شرعی حل بتا دیں۔ ایک عالم صاحب نے مجھ سے کہا ہے کہ واٹر بورڈ کا جو ماہانہ بل بنتا ہے، اندازہ لگا کر اتنی رقم ادا کر لیا کرو۔

براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں کہ ہمارے لیے درست لائحہ عمل کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ پانی کی بڑی لائن اگر حکومت کی جانب سے باقاعدہ اُس برابر والے  علاقے کے لیےمختص نہیں ہے، بلکہ سب کو استعمال کرنے کا اختیار ہے تو پھر آپ  کو اختیار ہوگا کہ  اس پانی کی لائن سے کنکشن لے کر معروف طریق پر استعمال کریں، بشرطیکہ اس علاقے والوں کو  پانی کی کمی کا سامنا نہ ہو، اوراگر حکومت کی جانب سے پانی کی وہ لائن  صرف ساتھ والے علاقے کے لیے ہی مختص ہے تو  اس صورت میں آپ کے لیے اس علاقے سے پانی کی لائن لانا درست نہیں ہوگا، بلکہ کوئی اور متبادل صورت اختیار کیجیے، یا قانونی اجازت لے کر اس لائن سے پانی حاصل کیجیے۔  یہ اس صورت میں ہے جب باقاعدہ پانی کی لائن وغیرہ ہو، اگر دریا یا بڑے چشموں وغیرہ کا پانی ہے جو کسی کی ملکیت میں نہیں ہے تو  وہ مباح ہے، اس کے استعمال کی سب کو اجازت ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"لأنّ طاعة الإمام فيما ليس بمعصية فرض، فكيف فيما هو طاعة؟."

(كتاب السير، فصل في أحكام البغاة، ج: 9، ص: 453، ط: دار الحديث، القاهرة)

شرح المجلہ ميں ہے:

"لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا فإن أخذه فليرده، فإذا أخذ أحد مال الآخر بدون قصد السرقة هازلا معه أو مختبرا مبلغ غضبه فيكون قد ارتكب الفعل المحرم شرعا."

(مقدمة الكتاب، المقالة الثانیة، المادة: 97، ج: 1، ص: 98، ط: دار الجيل)

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"غصب دراهم إنسان من کیسه، ثم ردها فیه بلا علمه برئ، وکذا لو سلمه إلیه بجهة أخری کهبة، أو إیداع، أو شراء، وکذا لو أطعمه فأکله خلافاً للشافعي."

( کتاب الغصب، مطلب في رد المغصوب وفیما لو أبی المالک قبوله، ج: 9، ص: 267، ط: ایچ ایم سعید، کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711102053

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں