
ہجرت کى اقسام و احكام كيا ہيں؟ کاروباری ترقى کے لیے كنيڈا كي طرف ہجرت کا کیا حکم ہے؟
لغت میں ہجرت کے معنی ترک وطن کے ہیں، پھر ترک وطن کے مختلف صورتیں ہوتی ہیں، کبھی تو آدمی کسی دنیوی مقصد کے تحت ترک وطن کرتا ہے مثلاً تجارت کی غرض سے یا ملازمت کی نیت سے۔ بعض اوقات اپنے وطن میں امن نہیں ہوتا ہے دوسری جگہ امن ہوتا ہے جیسا کہ حبشہ کی دونوں ہجرتوں میں ہوا، اسی طرح جب ابتداءً مسلمانوں نے مدینہ منورہ ہجرت کی تو مدینہ دار الامن تھا، البتہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور آپ کا وہاں استقرار ہوگیا تو اب دار الاسلام بن گیا، اس کے بعد جن لوگوں نے ہجرت کی یہ ہجرت دار الکفر سے دار الاسلام کی طرف ہوئی، یہ ہجرت ترک وطن کی تیسری صورت ہوگئی ۔پھر آخر زمانے میں ایک اور ہجرت ہوگی جو شام کی طرف ہوگی ۔
حافظ بدر العینی رحمہ اللہ تعالی نے ہجرت کی آٹھ اقسام ذکر فرمائی ہیں:
(1)ہجرت حبشہ اول۔(2) ہجرت حبشہ ثانی۔(3) مکہ سے مدینہ کی ہجرت۔(4) قبائل کی رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت۔(5) کفار مکہ میں سے مسلمان ہونے والے لوگوں کامدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔ (6) هجرۃ ما نهى الله عنه.(7) درالکفرسےدارلاسلام کی طرف ہجرت.(8) شام کی طرف ہجرت... یہ آخر زمانے میں ظہور فتن کے وقت ہوگا۔
اس تفصیل کے بعد واضح رہے کہ کاروباری مقاصد اور کسی بھی دنیاوی اغراض کے حصول کے لیے سفر کرنا اس پر ہجرت کا اطلاق نہیں ہوگا کیوں کہ شریعت میں ایس کوئی نظیر نہیں ملتی جس میں دنیاوی اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے نقل مکانی کرنے کو ہجرت کہا گیا ہو البتہ دنیاوی اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے ( مثلاً کاروباری معاملات کی خاطر ) سفر کرنا کوئی معیوب یا ممنوع نہیں، خود حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نبوت سے قبل مُلکِ شام کی طرف دو تجارتی سفر ثابت ہیں جن میں سے پہلا سفر تو آپ کے چچا ابوطالب کے ہمرا تھا جبکہ دوسرے سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا سامانِ تجارت لے کر بطور تاجر مُلک شام کی طرف روانہ ہوئے تھے ۔
تاہم دنیاوی اغراض و مقاصد کے حصول کی خاطر سفر کرتے ہوئے اتنا ضرور خیال رکھا جائے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے احکامات پر پوری طرح عمل ہو چاہے جہاں بھی ہو اور شرعی اصولوں کے مطابق تجارت کی جائے جس میں کسی قسم کا کوئی جھوٹ ، فریب و دھوکہ نہ ہو اور حلال و پاکیزہ تجارت کی جائے جس میں حرام کی آمیزش نہ ہو اور جہاں دل میں کوئی کھٹکہ آئے وہاں فوراً اہلِ حق علماء کرام اور مفتیان عظام کی طرف رجوع کرکے اس نوعیت کی وضاحت طلب کرلی جائے۔
عمدۃ القاری میں ہے:
"فعدها بعضهم خمسة الأولى إلى أرض الحبشة الثانية من مكة إلى المدينة. الثالثة هجرة القبائل إلى الرسول صلى الله عليه وسلم الرابعة هجرة من أسلم من أهل مكة. الخامسة هجرة ما نهى الله عنه واستدرك عليه بثلاثة أخرى الأولى الهجرة الثانية إلى أرض الحبشة فإن الصحابة هاجروا إليها مرتين الثانية هجرة من كان مقيما ببلاد الكفر ولا يقدر على إظهار الدين فإنه يجب عليه أن يهاجر إلى دار الإسلام كما صرح به بعض العلماء الثالثة الهجرة إلى الشام في آخر الزمان عند ظهور الفتن."
( باب بدء الوحي، ج : 1، ص: 62، ط: دارالکتب العلمیة، بیروت)
معارف القرآن میں ہے:
وطن سےنکلنااورزمین میں سفرکرناکبھی توکسی چیزسےبھاگنےاوربچنےکےلیےہوتاہےاورکبھی کسی کی طلب اورجستجوکےلیے،پہلی قسم کاجوسفرہےاسےہجرت کہتےہیں اوراس کی چھ قسمیں ہیں :اول دارالکفرسےدارالاسلام کی طرف جانا۔دوسرادارالبدعت سےنکل جانا .....اورجوسفرکسی چیزکی طلب اورجستجوکےلیےہواس کی نوقسمیں ہیں:
4۔سفر معاش : جب کسی شخص کو اپنے وطن میں ضرورت کے مطابق معاشی سامان حال نہ ہو سکے تو اس پر لازم ہے کہ یہاں سے سفر کر کے دوسری جگہ تلاش روزگار کرے ۔
5۔سفر تجارت : یعنی قدر ضرورت سے زائد مال حاصل کرنے کے لئے سفر کرنا، یہ بھی شرعاً جائز ہے، ، اللہ تعالیٰ نے سفر حج میں بھی تجارت کی اجاز دیدی ہے، تو تجارت کے لئے ہی سفر کرنا بدرجہ اولی جائز ہوا۔
(سورت النحل،ج:5،ص:341،ط:مکتبہ معارف القرآن)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144203201561
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن