
میرے پاس 7 تولہ سونا ہے، جبکہ چاندی کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ 6 لاکھ روپے نقد ہیں جو کاروبار میں لگائے ہوئے ہیں۔ اس رقم کو ابھی ایک سال مکمل نہیں ہوا۔ کاروبار میں سرمایہ کاری کی وجہ سے مجھے ماہانہ تقریباً ۳ سے ۴ ہزار روپے آمدنی ہوتی ہے، جو گھر کے اخراجات میں خرچ ہو جاتی ہے۔ مہینے کے آخر میں قرض لینا بھی پڑ جاتا ہے۔
زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے میرے پاس اس کے علاوہ کوئی مال موجود نہیں ہے، اس لیے زکوٰۃ دینے کے لیے سونے میں سے تقریباً ایک تولہ فروخت کرنا پڑے گا۔ دوسری طرف میرے شوہر کی آمدنی بھی زیادہ تر بچوں کے اخراجات اور گھریلو ضروریات میں خرچ ہو جاتی ہے۔ مزید یہ کہ میرے شوہر کے ذمے دو لاکھ روپے بطور قرض واجب الادا بھی ہیں۔
سوال:کیا مجھ پر زکوٰۃ لازم ہے؟ اگر لازم ہے تو کس حساب سے اور کتنی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگی؟ اگر رقم ہی بتا دیں تو زیادہ اچھا ہے۔
واضح رہے کہ وجوبِ زکوٰۃ میں سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ سونا ہے۔ اور اگر کسی کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سے کم سونا ہو، لیکن اس کے ساتھ کچھ چاندی یا کچھ رقم بھی ہو اور دونوں کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زائد ہو، تو قمری مہینوں کے اعتبار سے سال پورا ہونے پر حسبِ شرائط ڈھائی فیصد زکوٰۃ واجب ہوگی۔
مذکورہ تفصیل کے رو سے صورتِ مسئولہ میں سائلہ کی ملکیت میں سات تولہ سونا ہے اور چھ لاکھ روپے نقد ہیں جو کاروبار میں لگائے ہوئے ہیں، لہٰذا ایسی صورت میں سائلہ پر زکوٰۃ واجب ہے۔
زکوٰۃ کا حساب کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ واجب الادا قرض (اگر سائلہ کے ذمے ہو) منہا کرنے کے بعد باقی تمام مال (سونا اور کاروبار کی رقم مع منافع، بشرطیکہ منافع موجود ہو اور خرچ نہ ہوا ہو) کی مجموعی مالیت اگر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) کو پہنچ جائے اور اس پر ایک قمری سال گزر جائے تو اس پر کل مجموعے کا چالیسواں حصہ، یعنی ڈھائی فیصد بطور زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہوگا۔
مثال کے طور پر سال پورا ہونے کے دن اگر نقد/کاروباری سرمایہ 6,00,000 روپے ہو تو زکوٰۃ اس طرح ہوگی: 6,00,000 کا 2.5% = 15,000 روپے، لہٰذا 15,000 روپے زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔اسی طرح سونے کی موجودہ قیمتِ فروخت (مارکیٹ سے معلوم کرکے اسے) بھی اس مال میں شامل کیا جائے گا اور مجموعی مال پر اسی تناسب سے، یعنی ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔
نیز صورتِ مسئولہ میں اگر نقد رقم موجود نہ ہو اور سونا بیچنا پڑے تو سونے کا کچھ حصہ فروخت کرکے زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہوگا۔
واضح رہے کہ شوہر کے ذمے جو دو لاکھ روپے قرض ہے، اس کا سائلہ کی زکوٰۃ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ وہ قرض شوہر کے ذمے ہے، سائلہ کے ذمے نہیں۔
شرح مختصر الكرخی میں ہے:
"قال الشيخ أبو الحسن رحمه الله تعالى: ما مر به المسلم على العاشر مما تجب فيه الزكاة، وقد حال عليه الحول، أخذ منه ربع العشر، وهذا هو الزكاة الواجبة عليه بعينها، تجب على شروط الزكاة، وتسقط بما تسقط به الزكاة.والأصل في ذلك: ما روي أن عمر الله رضي الله عنه نصب العشار، وقال لهم: (خذوا من المسلم ربع العشر، ومن الذمي نصف العشر، ومن الحربي العشر)، وهذا بحضرة الصحابة من غير نكير."
(باب: ما يمر به على العاشر، ج: 2، ص: 224، ط: دار أسفار - الكويت)
بدائع الصنائع میں ہے:
"لأن الواجب الأصلي عندهما هو ربع عشر العين وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا."
(فصل صفة الواجب في أموال التجارة، ج: 2، ص: 22، ط: مطبعة شركة المطبوعات العلمية ومطبعة الجمالية بمصر)
وفيه أيضًا:
"فأما إذا كان له الصنفان جميعا فإن لم يكن كل واحد منهما نصابا بأن كان له عشرة مثاقيل ومائة درهم فإنه يضم أحدهما إلى الآخر في حق تكميل النصاب عندنا..... (ولنا) ما روي عن بكير بن عبد الله بن الأشج أنه قال: مضت السنة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بضم الذهب إلى الفضة والفضة إلى الذهب في إخراج الزكاة. ولأنهما مالان متحدان في المعنى الذي تعلق به وجوب الزكاة فيهما وهو الإعداد للتجارة بأصل الخلقة والثمنية فكانا في حكم الزكاة كجنس واحد. ولهذا اتفق الواجب فيهما وهو ربع العشر على كل حال وإنما يتفق الواجب عند اتحاد المال."
(كتاب الزكاة: فصل مقدار الواجب في زكاة الذهب، ج: 2، ص: 19، ط: مطبعة شركة المطبوعات العلمية ومطبعة الجمالية بمصر)
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار میں ہے:
"(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبه للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك، خرج مال المكاتب. أقول: إنه خرج باشتراط الحرية، على أن المطلق ينصرف للكامل، ودخل ما ملك بسبب خبيث كمغصوب خلطه إذا كان له غيره منفصل عنه يوفي دينه (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) سواء كان لله كزكاة وخراج، أو للعبد ولو كفالة أو مؤجلا، ولو صداق زوجته المؤجل للفراق ونفقة لزمته بقضاء أو رضا، بخلاف دين نذر وكفارة وحج لعدم المطالب، ولا يمنع الدين وجوب عشر وخراج وكفارة (و) فارغ (عن حاجته الاصلية) لان المشغول بها كالمعدوم."
(كتاب الزكاة، ص: 126، ط: دار الكتب العلمية – بيروت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144710101418
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن