بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کاروبار میں جھوٹ بولنے کی صورت میں آمدنی کا حکم۔ کبیرہ گناہ پر اصرار سے کافر ہونا


سوال

1۔ اگر ایک شخص کسی کاروباری معاملے میں جھوٹ سے کام لے تو کیا اس جھوٹ کی وجہ سے اس کی آمدنی حرم ہو جائے گی؟

2۔ہم نے سنا ہے کہ گناہ صغیرہ پر اصرار کرنے سے وہ گناہ کبیرہ ہو جاتا ہے اور کبھی کبیرہ گناہ پر اصرار کرنے کی وجہ سے انسان کافر ہو جاتا ہے؟ تو کیا یہ بات شرعی طور پر درست ہے؟

جواب

1۔واضح رہے کہ  شریعت مطہرہ میں کسی بھی قسم کی دھوکہ دہی اور جھوٹ بولنے پر شدید وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، چنانچہ ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کو مسلمان کی شان کے خلاف بتایا ہے، اور فرمایا کہ:"مومن ہر خصلت  پر ڈھل سکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے"۔ایک اور روایت میں جھوٹ بولنے کو منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ نیز  حدیث شریف کے مطابق کاروبار میں سچ بولنے کا اہتمام کرنا برکت کا باعث بنتی ہے اور جھوٹ کی وجہ سے کاروبار کی برکت ختم ہوجاتی ہے، ایک دوسری حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ  جھوٹی قسمیں کھا کر اپنی تجارت بڑھانے والے شخص سے قیامت کے دن  نہ تو مہربانی وعنایت کا کلام کرے گا، نہ رحمت و عنایت کی نظر سے اس کی طرف دیکھے گا، اور نہ اسے گناہوں سے پاک کرے گا، اور اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

اس لیے کاروبار میں جھوٹ بولنا شرعا ناجائز اور سخت گناہ کا کام ہے، البتہ اگر کاروبار بذاتِ خود حلال اشیاء کی خیرد و فروخت  کا ہو اور اس میں شریعتِ مطہرہ کی تمام شرائط کا لحاظ رکھا جاتا ہو تو جھوٹ بولنے کی وجہ سے آمدنی حرام نہیں ہوگی بشرطیکہ جھوٹ کے ذریعے سے دھوکہ دے کر لوگوں سے زائد رقم وصول نہ کی گئی ہو، لیکن اگر کاروبار میں جھوٹ بول کر دھوکے اور فریب کے ذریعے لوگوں سے زائد رقم وصول کی جائے تو لوگوں سے لی ہوئی اضافی رقم لینے والے کے حق میں حرام ہوگی اور اس رقم کو لوگوں کو واپس کرنا لازم ہوگا۔

صحيح البخاري میں ہے:

"حدثنا مسدد: حدثنا بشر بن المفضل: حدثنا الجريري، عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن أبيه رضي الله عنه قال:قال النبي صلى الله عليه وسلم: (ألا أنبئكم بأكبر الكبائر). ثلاثا، قالوا: بلى يا رسول الله، قال: (الإشراك بالله، وعقوق الوالدين - وجلس وكان متكئا، فقال - ‌ألا ‌وقول ‌الزور). قال: فما زال يكررها حتى قلنا: ليته يسكت."

(‌‌باب: ما قيل في شهادة الزور، ج:2، ص:939، ط: دار ابن كثير)

وفیہ ایضا : 

" حدثنا سليمان أبو الربيع قال: حدثنا إسماعيل بن جعفر قال: حدثنا نافع بن مالك بن أبي عامر أبو سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:(‌آية ‌المنافق ‌ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان)."

(‌‌باب: علامة المنافق، ج:1، ص:21، ط:دار ابن كثير)

صحیح مسلم میں ہے:

"حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، ومحمد بن المثنى، وابن بشار، قالوا: حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن علي بن مدرك، عن أبي زرعة، عن خرشة بن الحر، عن أبي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة، ‌ولا ‌ينظر ‌إليهم ولا يزكيهم ولهم عذاب أليم» قال: فقرأها رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث مرارا، قال أبو ذر: خابوا وخسروا، من هم يا رسول الله؟ قال: «المسبل، والمنان، والمنفق سلعته بالحلف الكاذب."

(كتاب الإيمان،باب بيان غلظ تحريم إسبال الإزار، والمن بالعطية، وتنفيق السلعة بالحلف...الخ،1/ 102، ط:دار احياء الكتب العربية)

مظاہرِ حق شرح مشکاۃ شریف میں ہے:

’’حضرت ابوذررضی اللہ عنہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  تین شخص ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ تو ان سے مہربانی وعنایت کا کلام کرے گا، نہ بنظر رحمت و عنایت ان کی طرف دیکھے گا، اور نہ ان کو گناہوں سے پاک کرے گا، اور ان تینوں کے لیے درد ناک عذاب ہے،  ابوذر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیروبھلائی سے محروم اور اس ٹوٹے میں رہنے والے وہ کون شخص ہیں؟  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک تو پائنچے لٹکانے والا، دوسرا کسی کو کوئی چیز دے کر احسان جتانے والا، اور تیسرا جھوٹی قسمیں کھا کر اپنی تجارت بڑھانے والا۔ (صحیح مسلم)

تشریح : پائنچے لٹکانے والے سے مراد وہ شخص ہے جو ازراہِ تکبر ٹخنوں سے نیچاپا جامہ پہنتا ہے، چناں چہ اس میں وہ شخص بھی داخل ہے جو ٹخنوں سے نیچا کرتہ پہنے۔ احسان جتانے کا مطلب یہ ہے کہ کسی کے ساتھ کوئی اچھا سلوک کر کے مثلاً کسی کو کوئی چیز دے کر یا کسی کے ساتھ ہم دردی کا کوئی معاملہ کر کے اسے زبان پر لایا جائے، چناں چہ جو شخص کسی کے ساتھ ہم دردی واعانت کا کوئی معاملہ کر کے پھر اس پر احسان جتاتا ہے تو وہ ثواب سے محروم رہتا ہے۔ جھوٹی قسمیں کھا کر تجارت بڑھانے والے سے مراد وہ تاجر ہے جو زیادہ نفع حاصل کرنے کے لیے یا اپنا مالِ تجارت بڑھانے کے لیے جھوٹی قسمیں کھائے، مثلاً اس نے کوئی چیز نوے روپے میں خریدی ہو مگر اپنے خریدار سے اس کی زیادہ قیمت وصول کرنے کے لیے یا اس کی مالیت بڑھانے کے لیے جھوٹی قسم کھا کر کہے کہ اللہ کی قسم میں نے یہ چیز سو روپے میں خریدی ہے‘‘۔(مظاہر حق)

2۔یہ بات تو درست ہے کہ جو شخص کسی صغیرہ گناہ کو بار بار کرے اور اس کی عادت بنالے تو وہ صغیرہ گناہ ایسے شخص کے حق میں کبیرہ گناہ بن جاتا ہے، البتہ یہ کہنا غلط ہے کہ کبیرہ گناہ کو بار بار کرنے سے انسان کافر ہوجاتا ہے، کیوں کہ اہلِ سنت و الجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ کسی بھی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے انسان کافر نہیں ہوتا ہے خواہ کتنی ہی بار کرے بشرطیکہ کسی حرام کام کو حلال سمجھ کر نہ کرے،البتہ بعض کبیرہ گناہوں پر اصرار بسا اوقات موت سے پہلے ایمان سے محرومی کا باعث بن جاتا ہے، اس لیے گناہ ہوجانے کی صورت میں فورا توبہ و استغفار کرلینا چاہیے۔ 

الزواجر عن اقتراف الكبائر  میں ہے:

"قيل هي سبع ويستدل له بخبر الصحيحين «اجتنبوا السبع الموبقات: الشرك بالله، والسحر، وقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق، وأكل مال اليتيم، وأكل الربا، والتولي يوم الزحف، وقذف المحصنات الغافلات المؤمنات» ، وفي رواية لهما «الكبائر: الإشراك بالله، والسحر، وعقوق الوالدين، وقتل النفس» زاد البخاري: «واليمين الغموس» . ومسلم بدلها: «وقول الزور» .

والجواب أن ذلك محمول على أنه - صلى الله عليه وسلم - إنما ذكره كذلك قصدا لبيان المحتاج منها وقت ذكره لا لحصر الكبائر في ذلك، وممن صرح بأن الكبائر سبع علي كرم الله وجهه وعطاء وعبيد بن عمير، وقيل خمس عشرة، وقيل أربع عشرة، وقيل أربع، ونقل عن ابن مسعود، وعنه أنها ثلاث، وعنه أنها عشرة، وعن ابن عباس كما رواه عبد الرزاق والطبراني هي إلى السبعين أقرب منها إلى السبع، وقال أكبر تلامذته سعيد بن جبير - رضي الله عنهما -: هي إلى السبعمائة أقرب يعني باعتبار أصناف أنواعها، وروى الطبراني هذه المقالة عن سعيد عن ابن عباس نفسه: أن رجلا قال لابن عباس: كم الكبائر سبع هي؟ قال: هي إلى السبعمائة أقرب منها إلى سبع غير أنه لا كبيرة مع الاستغفار: أي التوبة بشروطها، ولا صغيرة مع الإصرار. قال الديلمي من أصحابنا: وقد ذكرنا عددها في تأليف لنا باجتهادنا، فزادت على أربعين كبيرة فيؤول إلى ما قاله ابن عباس - رضي الله تعالى عنهما -."

(مقدمة فی تعریف الکبیرة، ج:1، ص:14، ط:دارالفکر)

علامہ عبد الحئی لکھنوی  رحمہ اللہ اپنے رسالے "ترويح الجنان بتشريح حکم شرب الدخان" میں تحریر فرمایا ہے:

"وخلاصة المرام في المقام: أنّه لا شبهة في إباحته وعدم تحريمه ولا ريب في کراہته، فإن کانت کراہته تحريمية کان الارتکاب من الکبائر؛ لأنّ المکروه تحريمًا قريب مِن الحرام علی ما صرّح به جمع مِن الأعلام وإنْ عدّہ بعضهم مِن الصّغائر. وإن کانت تنزيهية کان ارتکابه صغيرة، لکن يکون بالإصرار عليه واعتيادہ کبيرۃ."

(ترويح الجنان بتشريح حکم شرب الدخان،ص:58)

الفقه الأكبر میں ہے:

"ولا نكفر مسلما بذنب من الذنوب وإن كانت كبيرة إذا لم يستحلها ولا نزيل عنه اسم الإيمان ونسميه مؤمنا حقيقة ويجوز ان يكون مؤمنا فاسقا غير كافر."

(ص:43،ط:مكتبة الفرقان - الإمارات العربية)

«شرح العقيدة الطحاوية لمحمد ابن أبي العز الحنفي» میں ہے:

"قوله. (ولا نكفر أحدا من أهل القبلة بذنب، ما لم يستحله، ولا نقول لا يضر مع الإيمان ذنب لمن عمله) . ش: أراد بأهل القبلة الذين تقدم ذكرهم في قوله: ونسمي أهل قبلتنا مسلمين مؤمنين، يشير الشيخ رحمه الله إلى الرد على الخوارج القائلين بالتكفير بكل ذنب.

واعلم - رحمك الله وإيانا - أن باب التكفير وعدم التكفير، باب عظمت الفتنة والمحنة فيه، وكثر فيه الافتراق، وتشتتت فيه الأهواء والآراء، وتعارضت فيه دلائلهم. فالناس فيه، في جنس تكفير أهل المقالات والعقائد الفاسدة، المخالفة للحق الذي بعث الله به رسوله في نفس الأمر، أو المخالفة لذلك في اعتقادهم، على طرفين ووسط، من جنس الاختلاف في تكفير أهل الكبائر العملية. فطائفة تقول: لا نكفر من أهل القبلة أحدا، فتنفي التكفير نفيا عاما، مع العلم بأن في أهل القبلة المنافقين، الذين فيهم من هو أكفر من اليهود والنصارى بالكتاب والسنة والإجماع، وفيهم من قد يظهر بعض ذلك حيث يمكنهم، وهم يتظاهرون بالشهادتين. وأيضا: فلا خلاف بين المسلمين أن الرجل لو أظهر إنكار الواجبات الظاهرة المتواترة، والمحرمات الظاهرة المتواترة، ونحو ذلك، فإنه يستتاب، فإن تاب، وإلا قتل كافرا مرتدا. والنفاق والردة مظنتهما البدع والفجور، كما ذكره الخلال في كتاب السنة، بسنده إلى محمد بن سيرين، أنه قال: إن أسرع الناس ردة أهل الأهواء، وكان يرى هذه الآية نزلت فيهم: {وإذا رأيت الذين يخوضون في آياتنا فأعرض عنهم حتى يخوضوا في حديث غيره} [الأنعام: 68] . ولهذا امتنع كثير من الأئمة عن إطلاق القول بأنا لا نكفر أحدا بذنب، بل يقال: لا نكفرهم بكل ذنب، كما تفعله الخوارج. وفرق بين النفي العام ونفي العموم. والواجب إنما هو نفي العموم، مناقضة لقول الخوارج الذين يكفرون بكل ذنب. ولهذا - والله أعلم - قيده الشيخ رحمه الله [بقوله] : ما لم يستحله. وفي قوله: ما لم يستحله إشارة إلى أن مراده من هذا النفي العام لكل ذنب، الذنوب العملية لا العلمية. وفيه إشكال فإن الشارع لم يكتف من المكلف في العمليات بمجرد العمل دون العلم، ولا في العلميات بمجرد العلم دون العمل، وليس العمل مقصورا على عمل الجوارح، بل أعمال القلوب أصل لعمل الجوارح، وأعمال الجوارح تبع. إلا أن يضمن قوله: يستحله بمعنى: يعتقده، أو نحو ذلك."

(الرد على الخوارج القائلين بالتكفير بكل ذنب،ج:2، ص:432، ط:مؤسسة الرسالة - بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101478

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں