
کیا کاروبار کی تشہیر کےلیےاپنی تصویر دکان پر یا سائن بورڈ پر لگانا جائز ہے ؟
واضح رہے کہ اسلام میں کسی بھی جان دار کی کسی بھی قسم کی تصویر بلا ضرورتِ شدیدہ کھینچنا اور کھنچوانا ناجائز اور حرام ہے ، اور اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کئی احادیث میں اس سے منع فرمایا ہے۔ اور تصویر بنانے اور بنوانے والوں کے لیے سخت وعیدات ذکر فرمائی ہیں، ایک حدیث میں فرمایا کہ ”قیامت کے دن سب سے سخت عذا ب تصویر بنانے والوں کو ہوگا“، دوسری حدیث میں ہےکہ ”جو شخص دنیا میں کسی (جاندار) کی تصویر بنائے گا، قیامت میں اُس کو حکم دیا جائے گا کہ وہ اُس میں روح ڈالے، لیکن وہ ہر گز نہیں ڈال سکے گا“ (اس پر اُس کو شدید عذاب ہوگا)؛ البتہ ضرورتِ شدیدہ کے وقت تصویر کھنچوانے کی گنجائش ہے ۔اور چونکہ کاروبار کی تشہیر کے لیے اپنی تصویر کو دکان پر یا سائن بورڈ پر لگانا یہ ضرورت شدیدہ میں داخل نہیں ،اس لیے صورت مسئولہ میں کاروبار کی تشہیر کے لیے اپنی تصویر دکان پر یاسائن بورڈ پر لگانا ہرگز جائز نہیں ہوگا۔ البتہ آپ اپنی دکان میں موجود سامان کی تصاویر دکان پر یا سائن بورڈ پر لگاکر کاروبار کی تشہیر کرسکتے ہیں ۔
صحیح بخاری میں ہے :
"عن عبد اللّٰہ بن مسعود رضي اللّٰہ عنہ قال سمعتُ النبيَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: ان أشدَّ الناس عذاباً عند اللّٰہ المصوّرون "
(کتاب اللباس، باب بیان عذاب المصورین یوم القیامة، ج:2، ص:1299 رقم: ۵۹۵۰، ط: البشریٰ)
وفیہ ایضا :
"عن قتادة قال کنتُ عند ابن عباس رضي اللّٰہ عنہ (الی قوله) حتی سئل، فقال: سمعتُ محمداً صلی اللّٰہ علیه وسلم یقول: من صور صورةً في الدنیا، کلف یوم القیامة أن ینفخ فیها الروح و لیس بنافخ"
(کتاب اللباس، باب بیان عذاب المصورین یوم القیامة ، ج:2، ص:1299، ط:البشریٰ)
عمدۃ القاری میں ہے :
"وقال العیني نقلاً عن التوضیح: قال أصحابنا و غیرہم تصویرُ صورة الحیوان حرام أشد التحریم و ہو من الکبائر و سواء صنعہ لما یمتہن أو لغیرہ فحرام بکل حال، لأن فیہ مضاہات بخلق اللّٰہ۔۔۔۔ أما مالیس فیہ صورة حیوان کالبحر ونحوہ، فلیس بحرام، و بمعناہ قال جماعة العلماء مالک والسفیان وأبو حنیفة رحمھم اللہ وغیرھم"
(کتاب اللباس: باب بیان عذاب المصورین یوم القیامة، ج:22، ص:109، ط: الحقانیة)
شرح مسلم للنووی میں ہے :
"وقال النووي: تصویرُ صورة الحیوان حرام شدید التحریم، وھو من الکبائر لأنہ متوعد علیه بہذا الوعید الشدید المذکور في الأحادیث ....الخ"
(کتاب اللباس ، ج:14، ص:81، ط: دار الاحیاء التراث)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100680
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن