
میں Yango اور Indrive پر گاڑی کسی سے کرایہ پر لے کر چلا رہا تھا، جس کا کرایہ یومیہ 3300 تھا، اب بعض عوارض کی بنا پر میں چاہتا ہوں کہ اپنے لیے گاڑی کا انتظام کرلوں، گاڑی حاصل کرنے کے درج ذیل تین طریقوں میں سے شرعا کون سا طریقہ اختیار کرنا میرے لیے درست ہے ؟
1۔ مجھے دس لاکھ کی ضرورت ہے، جس سے میں بینک لیز سے کار فائنانس کروا کر اس کی قسطیں (جو کہ تین سال کی ہوں گی)، ہر ماہ بینک کو جمع کرواتا رہوں گا، اور جو اس میں اپنا حصہ ڈالے، میں اس کو ہر ماہ اسی حساب سے کرایہ دیتا رہوں گا، مثلا کوئی ایک لاکھ روپے دیتا ہے تو میں اس کو پانچ ہزار دوں گا، جب تین سال بعد سرمایہ ان کو قسط وار واپس ہوجائے گا، تو پھر ماہانہ کرایہ دینا بند کردوں گا، اسٹامپ پیپر پر معاہدہ ہوگا، جس پر میری طرف سے دو گواہ بھی ہوں گے۔
2۔ دوسری صورت یہ ہے کہ میں کسی شخص سے مکمل رقم قرض لے کر اس کے ساتھ تین سال بعد کی ادائیگی کا معاملہ کرکے تین سال بعدمتعین شدہ تاریخ کو اس کو واپس کردوں۔
3۔ تیسری صورت یہ ہے کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے، لہذا میں زکوۃ لے کر اپنا کاروبار شروع کروں۔
صورت مسئولہ میں سائل کا گاڑی لینے کے لیے مذکورہ تین طریقوں میں سے دوسرا طریقہ اور شرائط کے ساتھ تیسرا طریقہ اختیار کرنا درست ہے۔
پہلے طریقہ میں سائل کا بینک سے گاڑی فائنانس کروانا قرض پر زیادتی کے ساتھ ادائیگی کا معاملہ کرنا ہے، جو سود پر مبنی ہونے کی وجہ سے جائز نہیں، دوسری صورت میں سائل اگر کسی شخص سے مکمل رقم قرض لے کر اس کے ساتھ کسی معلوم مدت تک کا معاملہ کرلے تو یہ شرعا درست ہے، اس میں بھی سائل کو چاہییے کہ جلد از جلد ادائیگی کرکے اس قرض سے سبکدوش ہونے کی نیت رکھے۔
تیسری صورت میں اگر سائل کے پاس ضروریات اصلیہ سے زائد کوئی ایسا سامان نہیں ہے جو ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے مساوی مالیت تک پہونچتا ہو تو اور سائل سید ہاشمی بھی نہ ہو تو سائل کے لیے زکوۃ کی رقم لینا بھی جائز ہے۔
فتح القدیرمیں ہے:
عن عمارة الهمداني قال: سمعت عليا رضي الله عنه يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «كل قرض جر نفعا فهو ربا."
(كتاب الحوالة، ج: 7، ص: 250، ط: دار الفکر)
اعلاء السنن میں ہے:
"قال ابن المنذر: أجمعوا على أن المسلف إذا شرط على المستسلف زیادة أو ھدیة فأسلف على ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا".
(کتاب الحوالة، باب کل قرض جر منفعة، ج: 14، ص: 513، ط: إدارۃ القرآن)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"لايجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصاباً أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضاً للتجارة أو لغير التجارة فاضلاً عن حاجته في جميع السنة، هكذا في الزاهدي. والشرط أن يكون فاضلاً عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولايشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان، كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحاً مكتسباً، كذا في الزاهدي."
(کتاب الزکوۃ، باب المصرف، ج: 1، ص: 189، ط: دار الفکر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144708101193
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن