
میرے والد صاحب کا ایک کاروبارہے،ان کا چھوٹابھائی ان کے ساتھ کام کرتاہے،سرمایہ مکمل والد صاحب کاہے،اور کاروبار بھی انہی کاہے،چھوٹےبھائی کوماہانہ یوٹیلیٹی بل،میڈیکل اور دیگر گھریلو اخراجات ملتے ہیں،ساتھ ماہانہ ایک لاکھ روپے تنخواہ بھی ملتی ہے،اب وہ بھائی الگ ہورہاہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا والد کے کاروبار سے(چھوٹے بھائی کو) کچھ ملےگا یا نہیں؟
گودام اور گھر وغیرہ سب والد صاحب کے نام ہیں۔
بصدق واقعہ، صورتِ مسئولہ میں مذکورہ کاروبار چوں کہ سائل کے والد کا ہے، اور اس میں کل سرمایہ بھی سائل کے والد کاہے، جب کہ والد اپنے چھوٹے بھائی کو ماہانہ تنخواہ اور کچھ مراعات دیتےہیں، لہذا سائل کے مذکورہ چچا اگر الگ ہونا چاہتے ہیں، تو کاروبار میں سے انہیں کچھ بھی دینا سائل کے والد پر شرعا لازم نہیں ہوگا، تاہم اگر وہ کچھ دیتے ہیں، تو یہ ان کی جانب سے چھوٹے بھائی پر تبرع و احسان ہوگا،البتہ اگر سائل کے چچا کی کوئی تنخواہ وغیرہ سائل کے والد پر باقی ہو تو وہ اس کاحق ہے،جس کا ان کو دینا لازم ہے۔
الدرالمختارمیں ہے:
"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير واحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتابالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهراللخدمة"
(کتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، ص:583، دار الکتب العلمية، بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100023
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن