بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کارخانے کو کنڈے (چوری) کی بجلی سمیت کرائے پر لینے کا حکم


سوال

ہم ایک کارخانہ نما جگہ کرائے پر لے رہے ہیں مکمل سہولت کے ساتھ جس میں بجلی گیس اور پانی سب سہولتیں شامل ہیں، لیکن ہمیں نہیں پتہ کہ مالک مکان بجلی کا بل بھرتے ہیں یا نہیں، جب کہ ہمیں تو کرائے کی مد میں یہ سہولتیں مل رہی ہیں، ایسی صورت میں ہمارے لیے کیا حکم ہے؟

تنقیح: عام طور پر ایسا کارخانہ کرائے پر لینے کی صورت میں تقریبا سوا چار کروڑ روپے خرچہ آتا ہے، یعنی تقریباً 15 لاکھ روپے کارخانے کا کرایہ ہوتا ہے، ایک کروڑ روپے مشینری کا کرایہ ہوتا ہے، تین کروڑ روپے بجلی کا بِل آتا ہے، اس کے علاوہ پانی کا بِل بھی آتا ہے، اب ایک شخص ہے وہ کہتا ہے کہ مجھ سے دو کروڑ روپے میں کارخانہ کرایہ پر لے لو، اس دو کروڑ روپے میں کارخانے کے ساتھ ساتھ مشینری، بجلی، پانی وغیرہ سب ملے گا،  مسئلہ یہ ہے کہ بجلی کا کنیکشن  تو KE والوں سے ہی لیا جاتا ہے لیکن بجلی کا کوئی میٹر وغیرہ نہیں لگایا جاتا، یعنی بظاہر KE کے ملازمین کو رشوت وغیرہ دے کر یا تعلقات کی بنا پر کنڈے (چوری) کی بجلی حاصل کی جاتی ہے، اس لیے بجلی کا بِل نہیں آتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح اس شخص سے دو کروڑ روپے کے عوض  کارخانہ (بجلی اور پانی سمیت) کرائے پر لینا جائز ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ کنڈے(چوری) کی بجلی کااستعمال کرنا شرعاً  جائز نہیں ہے،یہ بہت بڑاگناہ ہے؛اس لیے کہ حکومت کی طرف سے بل کے عوض فراہم کردہ بجلی پوری قوم کی مشترکہ امانت ہے،لہذاکنڈے(چوری) کی بجلی کااستعمال کرنا  اجتماعی اور مشترکہ چیز کی چوری کرنا ہے،اور اجتماعی چیز کی چوری کا گناہ بھی فرد کی چوری سے زیادہ ہے؛کیوں کہ اس سے دیگر لوگوں کے حقوق تلف ہوتے ہیں، نیزچوری کی بجلی کا علم رکھنے کے باوجود کنڈے (چوری) کی بجلی استعمال کرناخود ایک مستقل گناہ ہے، حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص کسی مسروقہ ( چوری شدہ) چیز کو خریدے حال آں کہ وہ جانتا ہو کہ یہ چیز چوری کی ہے تو وہ عار اور گناہ میں اس چور کے ساتھ شریک ہو گیا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جو شخص چوری کی بجلی کے ساتھ کارخانہ کرائے پر دے رہا ہے اس سے کارخانہ کرائے پر لینا شرعا و قانوناً جائز نہیں ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هریرة عن النبي ﷺ أنه قال: من اشتریٰ سرقةً و هو یعلم أنه سرقة فقد شرک في عارها و إثمها."

(المستدرک للحاکم،ج:3، ص:852، رقم الحدیث:2253، ط: نزار مصطفی الباز بیروت)

(كذا في السنن الکبرٰی للبیهقی،کتاب البیوع،باب کراهیة مبایعة من اکثر ماله من الربا،ج:5،ص:548، ط:دارالکتب العلمیة)

روح البیان میں ہے:

"والثالث ‌فيما ‌بينه ‌وبين ‌عباد ‌الله ‌وهو ‌ان ‌يغصب ‌أموالهم ‌او ‌يضربهم او يشتمهم او يقتلهم فان التوبة لا تكفيه الا ان يرضى عنه خصمه او يجتهد في الأعمال الصالحة حتى يوفق الله بينهما يوم القيامة فانه إذا تاب العبد وكان عليه حقوق العباد فعليه ان يردها الى أربابها."

(سورة البقرة الأية: 180، 1/ 286، ط: دار الفكر - بيروت )

فتاوی شامی میں ہے :

"كتاب السرقة (هي) لغة أخذ الشيء من الغير خفية.

قال القهستاني: وهي نوعان؛ لأنه إما أن يكون ضررها بذي المال أو به وبعامة المسلمين، فالأول يسمى بالسرقة الصغرى والثاني بالكبرى، بين حكمها في الآخر؛ لأنها أقل وقوعا وقد اشتركا في التعريف وأكثر الشروط اهـ أي؛ لأن المعتبر في كل منهما أخذ المال خفية، لكن الخفية في الصغرى هي الخفية عن غين المالك أو من يقوم مقامه كالمودع والمستعير. وفي الكبرى عن عين الإمام الملتزم حفظ طرق المسلمين وبلادهم كما في الفتح."

(کتاب السرقة، ج:4، ص:82، ط: سعید)

وفيه أيضا:

"وحكمه الإثم لمن علم أنه مال الغير ورد العين قائمة والغرم هالكة."

(كتاب الغصب، ج:6، ص:179، ط: سعيد)

وفيه أيضا:

"(قوله الحرمة تتعدد إلخ) نقل الحموي عن سيدي عبد الوهاب الشعراني أنه قال في كتابه المنن: وما نقل عن بعض الحنيفة من أن الحرام لا يتعدى ذمتين، سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما لو رأى المكاس مثلا يأخذ من أحد شيئا من المكس ثم يعطيه آخر ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فهو حرام اهـ"

(کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، ج:5، ص:98، ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ولا يجوز حمل تراب ربض المصر لأنه حصن فكان حق العامة."

(کتاب الکراهية، الباب الثلاثون في المتفرقات، ج:5، ص:373، ط: دار الفکر)

وفيه أيضا:

"‌وإذا ‌أخذ ‌المال ‌ولم ‌يصنع ‌شيئا ‌غيره ‌فإن ‌جاء ‌تائبا ‌قبل ‌أن ‌يؤخذ ‌فعليه ‌أن ‌يرد ‌ما ‌أخذوا، ‌وضمانه ‌إن ‌هلك، ‌كذا ‌في ‌السراجية."

(كتاب السرقة، الباب الرابع، ج:2، ص:187، ط: دار الفكر)

حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار میں ہے:

"إن علم أن العين التي يغلب علي الظن أنهم أخذوها من الغير بالظلم قائمة و باعوها في الأسواق فإنه لاينبغي شرائها منهم و إن تداولته الأيدي."

(کتاب الحظر والاباحة، فصل فی البیع، ج4، ص192، ط:دار المعرفة)

حکیم الامت حضرت مولانااشرف علی  تھانوی ۔رحمۃاللہ علیہ۔لکھتے ہیں:

"اسلام میں جس طرح شخصی املاک کی چوری ناجائز ہے، اسی طرح گورنمنٹ کی املاک بجلی وغیرہ کی چوری بھی ناجائز ہے ،اس لیے  جس قدر بجلی کی چوری کی جائے گی، اس کا ضمان واجب ہوگا۔"

(امدادالفتاوی، ج:4، ص:147، سوال: 18، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند)

فتاوی محمودیہ میں ہے :

"سوال:مسروقہ شیئ مثلاً:جانور،کپڑا،جوتا وغیرہ کو دانستہ یا غیر دانستہ  خریدنااور اس کو استعمال کرنا کیسا ہے ؟

الجواب حامدا ومصلیا:

معلوم ہونے پر کہ یہ چوری کی چیز ہے  ،اس کا خریدنا درست نہیں ،اس سے اس کی ملکیت ثابت نہیں ہو گی ۔"

 

(باب المال الحرام ومصرفہ،ج:24،ص:215،فاروقیہ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101796

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں