
اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور وارثوں میں ایک بیوہ، دو بیٹیاں، دو بھائی اور ایک بہن چھوڑی ہو تو اس فوت شدہ شخص کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟ تناسب کے حساب سے بتائیں۔ اس کے علاوہ یہ بتائیں کہ اگر فوت شدہ شخص اپنی زندگی میں اپنی پوری جائیداد اپنی بیوی اور بیٹیوں کے نام کرتا ہے تو کیا یہ عمل جائز ہوگا؟ اور اس صورتحال میں فوت شدہ شخص کی جائیداد کس طرح تقسیم ہوگی؟ رہنمائی فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ اولا مرحوم کے ترکہ میں سے ان کی تجہیز اور تکفین کے اخراجات ادا کیے جائیں ، پھر اگر مرحوم نے کوئی قرضہ چھوڑا ہو تو اس قرضے کو کل ترکے سے ادا کیا جائے ، پھر اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو بقیہ ترکہ کے ایک تہائی حصے میں سے نافذ کیا جائے، اس کے بعد مرحوم کی کل جائیداد کو 24 حصوں میں تقسیم کر کے بیوہ کو 3تین حصے، ہر ایک بیٹی کو 8 حصے، ہر ایک بھائی کو 2 حصے اور بہن کو ایک حصہ ملے گا۔
صورت تقسیم یہ ہے :
مرحوم 24
| بیوہ | بیٹی | بیٹی | بھائی | بھائی | بہن |
| 3 | 8 | 8 | 2 | 2 | 1 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے 12.50 فیصد بیوہ کو ، 33.33 فیصد ہر ایک بیٹی کو ، 8.33 فیصد ہر ایک بھائی کو اور 4.16 فیصد بہن کو ملے گا۔
اگر فوت شدہ شخص اپنی زندگی میں اپنی پوری جائیداد اپنی بیوی اور بیٹیوں کے نام کر دیتا ہے تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ ہر ایک حصہ الگ الگ متعین کر کے قبضہ بھی دے دیا تھا تو اس صورت میں ہر شخص اپنے اپنے قبضے کی جگہ کا مالک بن جائے گا، البتہ اس صورت میں بھائی بہن کو محروم کرنے کی وجہ سے گناہگار ہوگا اور اگر سب کو الگ الگ کر کے قبضہ نہیں دیا تھا تو گفٹ صحیح نہیں ہوگا، اس صورت میں تمام چیزیں ترکہ میں شامل ہوں گی اور اب مذکورہ تقسیم کے مطابق تقسیم کرنا پڑے گا۔
مشكاة المصابيح میں ہے:
"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة»، رواه ابن ماجه".
(باب الوصایا، الفصل الثالث 1 / 266 ط: قدیمی)
ترجمہ :حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا، (یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية".
(4/378، الباب الثانی فیما یجوز من الهبة و ما لایجوز، ط: رشیدیه)
فتاوی شامی میں ہے:
"بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة (وقوله: بخلاف جعلته باسمك) قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة؛ ولهذا قال في الخلاصة: لو غرس لابنه كرما إن قال: جعلته لابني، يكون هبة، وإن قال: باسم ابني، لايكون هبةً."
(كتاب الهبة، ص/689، ج/5، ط/سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101282
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن