بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کاریگر کا خراب مشین کی ریپیئرنگ کے لیے خریدے گئے سامان کی اصل قیمت میں اپنا منافع شامل کر کے انوائس میں لکھنے کا حکم (وکیل بالشراء کا مؤکل سے منافع کمانا)


سوال

 میرا سروسز سے متعلق کاروبار ہے جس میں کمپنی والے مشین میں موجود خرابی کی درستگی یا کوئی نیا سسٹم لگوانے کے لیے مجھے بلاتے ہیں۔ میں شعبہ الیکٹریکل سے ہوں۔ کام کے حساب سے میں ایک کوٹیشن بناتا ہوں جس کا ایک سیمپل بھی آپ کو دے رہا ہوں۔ اس میں میں لکھتا ہوں کہ اس پروجیکٹ میں یہ یہ ہارڈ ویئر لگے گی اور سافٹ ویئر کا کام ہوگا ،یہ سارے پروجیکٹ کی یہ کاسٹ ہے۔ ہارڈویئر کی قیمت میں بازار سے پتہ کرتا ہوں اس پہ 10 فیصد یا 12 فیصد منافع لگا کے ہارڈویئر کی قیمت کوٹیشن میں لگاتا ہوں۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوٹیشن منظور ہونے کے بعد جب پروجیکٹ سٹارٹ ہوا تو مزید کسی چیز کی ضرورت پیش آ جاتی ہے جس کا اندراج کوٹیشن میں نہیں ہوا ہوتا۔ پروجیکٹ ختم ہونے پہ جب فائنل انوائس جمع کرائی جاتی ہے اس میں وہ اضافی ہارڈ ویئر کی قیمت بمع منافع کے انوائس میں درج کر کے قیمت وصول کرتا ہوں۔ پوچھنا یہ ہے کہ جو اضافی ہارڈ ویئر میں بازار سے خرید کر لگاتا ہوں کیا اس کی وہی قیمت مجھے انوائس میں درج کرنا ہوگی جس قیمت پہ مجھے وہ بازار سے ملی یا اس پہ 10 فیصد یا 12 فیصد منافع لینا میرے لیے جائز ہوگا؟ کیونکہ ہارڈویئر کو بازار سے لینے میں جو وقت لگتا ہے، بعض دفعہ ہارڈویئر خراب بھی نکلتی ہے اس کو واپس کرنا پڑتا ہے، تو اس میں جو وقت لگتا ہے اس کی ہم قیمت وصول کرتے ہیں۔ اس سے متعلق رہنمائی درکار ہے۔

جواب

آپ کا سوال مکمل طور پر واضح نہیں ہے اور کوٹیشن کا سیمپل بھی سوال کے ساتھ منسلک نہیں ہے، بہرحال صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کا معاہدہ کمپنی کے ساتھ اجارہ کا ہوتا ہے، یعنی معاہدے کی رُو سے آپ خراب مشین کو درست کرنے یا نیا سسٹم لگانے کے لیے درکار سامان (ہارڈویئر وغیرہ) کمپنی کے وکیل کے طور پر بازار سے خرید کر لگانے اور کمپنی سے اس کی قیمت وصول کرنے کے پابند ہوتے ہیں اور مشین درست کرنے کی اجرت الگ سے طے کر کے کوٹیشن میں درج کرتے ہیں تو ایسی صورت میں آپ کے لیے انوائس میں بازار سے خریدے گئے سامان کی اصل قیمت ہی درج کرنا لازم ہوگا، بازار سے خریدے گئے سامان کی اصل قیمت میں 10 یا 12 فیصد منافع شامل کر کے انوائس میں درج کرنا جائز نہیں ہوگا، کیوں کہ سامان کی خریداری میں آپ کمپنی کی طرف سے وکیل ہیں اور وکیل امین ہوتا ہے،وکیل کے لیے اجرت متعین کیے بغیر مؤکل سے اضافی رقم وصول کرنا جائز نہیں ہے ، البتہ آپ سامان (ہارڈویئر وغیرہ) کی خریداری میں لگنے والی اپنی محنت اور خریداری پر لگنے والے وقت کی اجرت کو واضح طور پر علیحدہ سے بیان کردیں۔ اپنی اس محنت کی اجرت کو اصل اجرت (ہارڈوئیر سسٹم کی تنصیب) میں شامل نہ کریں بلکہ اسے علیحدہ بیان کیا جائے تو خریداری کی محنت کی اجرت وصول کرنا جائز ہوگا۔

اگر آپ خراب مشین کو صحیح  (ریپیئرنگ) کرنے کے لیے کمپنی سے ٹھیکہ پر معاہدہ کرتے ہیں یعنی ریپیئرنگ کے کام کی اجرت الگ سے طے کرنے کے بجائے مکمل کام اور مشین میں لگنے والے سامان کا ٹوٹل خرچہ طے کرلیتے ہیں اور کوٹیشن بناتے وقت سامان کی قیمت میں نفع شامل کر کے اس کے ضمن میں اجرت شامل کرلیتے ہیں گویا کمپنی سے یہ معاہدہ ہوتا ہے کہ کُل اتنے پیسوں میں آپ کا یہ کام ہوجائے گا اور اس کام کے لیے درکار سامان ہم اپنی طرف سے لگائیں گے، یعنی ہم بطور وکیل آپ کے لیے سامان خریدنے کے بجائے ہم خود سامان خرید کر آپ کو اتنے متعین پیسوں میں فروخت کریں گے  تو ایسی صورت میں سامان کی اصل قیمت پر 10 یا 12 فیصد منافع رکھ کر کمپنی کو بیچنے کی نیت سے انوائس میں شامل کرنا آپ کے لیے جائز ہوگا۔

  حدیث شریف میں ہے:

 "حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، عن حماد، عن إبراهيم، عن أبي سعيد الخدري، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم «نهى عن استئجار  الأجير ولم يبين، يعني حتى يبين له أجره»."

(المراسيل لأبي داود (ص: 167)، ط: مؤسسة الرسالة - بيروت)

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:

"وأما شرائط الصحة ‌فمنها ‌رضا ‌المتعاقدين. ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا ... ومنها أن تكون الأجرة معلومة."

(کتاب الاجارۃ، الباب الأول تفسير الإجارة وركنها وألفاظها وشرائطها، 4/ 411، ط:دار الفکر) 

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"استأجره ليبني له حائطا بالآجر والجص وعلم طوله وعرضه جاز. كذا في محيط السرخسي."

(كتاب الإجارة، الباب السادس عشر في مسائل الشيوع في الإجارة4/ 451، ط: رشيدية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل."

(كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة،6/ 46، ط: سعید)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) يعلم النفع أيضا ببيان (العمل كالصياغة والصبغ والخياطة) بما يرفع الجهالة، فيشترط في استئجار الدابة للركوب بيان الوقت أو الموضع، فلو خلا عنهما فهي فاسدة بزازية. (و) يعلم أيضا (بالإشارة كنقل هذا الطعام إلى كذا).

(قوله بما يرفع الجهالة) فلا بد أن يعين الثوب الذي يصبغ ولون الصبغ، أحمر أو نحوه وقدر الصبغ إذا كان يختلف.

وفي المحيط: لو استأجره لقصر عشرة أثواب ولم يرها فالإجارة فاسدة؛ لأنه يختلف بغلظه ورقته ذكره في البحر (قوله بيان الوقت أو الموضع) قال في البزازية: استأجر دابة ليشيع عليها أو يستقبل الحاج لا يصح بلا ذكر وقت أو موضع. وفيها: استأجرها من الكوفة إلى الحيرة يبلغ عليها إلى منزله ويركبها من منزله وكذا في حمل المتاع. وفيها: استأجر أجيرا ليعمل له يوما فمن طلوع الشمس بحكم العادة (قوله فهي فاسدة) أي فلا يجب أجر المثل إلا بحقيقة الانتفاع ط.

(قوله: بالإشارة إلخ) ؛ لأنه إذا علم المنقول والمكان المنقول إليه صارت المنفعة معلومة، وهذا النوع قريب من النوع الأول زيلعي."

(كتاب الإجارة، شروط الإجارة،ج:6، ص: 9، ط: سعید)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"(إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة) يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى. وفي الفاسدة أجر المثل ...لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة."

(الکتاب الحادی عشر الوکالة، الباب الثالث، الفصل االأول، ج3، ص:573، ط:دارالجیل)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد ‌بغير ‌سبب شرعي."

(كتاب الحدود، الباب السابع في حد القذف والتعزير،‌‌ فصل في التعزير، ج:2، ص:167، ط:رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144612101191

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں