
ایک آدمی غیر ملکی فرد سے کاروبار کرتا ہے اس غیر ملکی فرد کے لیے آرڈر پر بلینکٹ یا رضائی وغیرہ کا کپڑا بناتا ہے، آرڈر میں وہ مختلف جانوروں کی تصاویر بھی بنانے کا کہتا ہے کہ اس بلینکٹ یا رضائی پر اس طرح کی تصاویر بھی بنایا کرو، اب اگر یہ پاکستانی آدمی اس کی ڈیمانڈ پر چیز بنا کر نہ دے تو اس کو نقصان ہوتا ہے اور یہ غیر ملکی شخص کسی اور سے کاروبار شروع کر دیتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس غیر ملکی آدمی کے لیے بلینکٹ یا رضائی کا ایسا کپڑا بنا کر دینا جس میں مختلف جانور کی تصاویر ہوں، کیسا ہے؟
واضح رہے کہ دینِ اسلام میں جاندار کی صورت گری، و تصویر سازی کسی بھی شکل میں ہو، کسی بھی طریقے سے بنائی جائے، بناوٹ کے لیے جو بھی آلہ استعمال ہو، کسی بھی غرض و مقصد سے تصویر بنائی جائے، حرام ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں آرڈر پر بلینکٹ بنانے والے کے لیے جائز نہیں کہ وہ بلینکٹ پر جانوروں کی تصاویر بنائے، اگر ایسا کرے گا تو گناہ گار ہو گا۔
حدیث شریف میں ہے:
"عن عبد الرحمن بن القاسم ، عن أبيه ، أنه سمع عائشة ، تقول: دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد سترت سهوةً لي بقرام فيه تماثيل، فلما رآه هتكه وتلون وجهه، وقال: يا عائشة: " أشد الناس عذاباً عند الله يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله "، قالت عائشة: فقطعناه، فجعلنا منه وسادةً أو وسادتين."
(صحيح مسلم (3 / 1668) باب لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة)
"ترجمہ: ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں نے ایک طاق یا مچان کو اپنے ایک پردے سے ڈھانکا تھا جس میں تصویریں تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو اس کو پھاڑ ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! سب سے زیادہ سخت عذاب قیامت میں ان لوگوں کو ہو گا جو اللہ کی مخلوق کی شکل بناتے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے اس کو کاٹ کر ایک تکیہ بنایا یا دو تکیے بنائے۔"
حدیث شریف میں ہے:
"عن نافع ، أن ابن عمر أخبره، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " الذين يصنعون الصور يعذبون يوم القيامة، يقال لهم: أحيوا ما خلقتم ".
(صحيح مسلم (3 / 1669)، باب لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة)
"ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ مورتیں بناتے ہیں ان کو قیامت میں عذاب ہو گا، ان سے کہا جائے گا جِلاؤ ان کو جن کو تم نے بنایا۔“
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100890
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن