بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 صفر 1448ھ 02 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

کپڑوں کو کرایہ پر دینا کیا شرعا جائز ہے؟


سوال

جو لوگ کرائے پر کپڑے دیتے ہیں تو کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟

جواب

كراۓ پر کپڑے دینا شرعا جائز ہے۔

غمز عیون البصائرمیں ہے:

"في البزازية في أوائل كتاب الإجارة: استأجر ثوبا ليلبسه بدانق كل يوم فوضعه في منزله مدة ولم يلبسه يلزمه أجرة المدة التي لو لبس لا يتخرق فيها ولا يلزم لما بعدها لأنه لا يمكن تقدير الانتفاع بعدها، كالمرأة أخذت الكسوة ولم تلبسها (انتهى) ."

(کتاب الإجارات،ج:3،ص:110،ط:دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ تعالی اعلم


فتویٰ نمبر : 144802100984

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں