
جو لوگ کرائے پر کپڑے دیتے ہیں تو کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟
كراۓ پر کپڑے دینا شرعا جائز ہے۔
غمز عیون البصائرمیں ہے:
"في البزازية في أوائل كتاب الإجارة: استأجر ثوبا ليلبسه بدانق كل يوم فوضعه في منزله مدة ولم يلبسه يلزمه أجرة المدة التي لو لبس لا يتخرق فيها ولا يلزم لما بعدها لأنه لا يمكن تقدير الانتفاع بعدها، كالمرأة أخذت الكسوة ولم تلبسها (انتهى) ."
(کتاب الإجارات،ج:3،ص:110،ط:دار الکتب العلمیة)
فقط واللہ تعالی اعلم
فتویٰ نمبر : 144802100984
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن