بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 صفر 1448ھ 30 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

کپڑے کی ناپاکی کے شک سے کپڑا ناپاک شمار نہیں ہوتا ہے


سوال

مشکوک کپڑوں میں نماز کا حکم کیا ہے؟ اگر بحالت مجبوری ایسے کپڑے میسر ہوں کہ نہ تو ان کے پاک ہونے کا یقین ہے اور نہ ہی ناپاک ہونے کا تو نماز کس طرح ادا کریں؟ جبکہ سفر میں ہیں اور کوئی دوسرا کپڑا بھی نہیں ہے۔

جواب

محض  شک کی بنیاد پر کپڑا ناپاک  نہیں ہوتا،اور فقہ کا قاعدہ ہے کہ "الیقین لا یزول بالشک" (یقین شک سے زائل نہیں ہوتا)، لہذا اگر سفر میں کپڑے کی ناپاکی کا محض شک ہو، جبکہ اس شك سے پہلے كپڑا پاك ہو تو ایسے کپڑے میں نماز ادا کرنا جائز ہوگا، نماز قضاء  کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

الاشباہ والنظائر میں ہے:

‌‌"القاعدة الثالثة: اليقين لا يزول بالشك ....... شك في وجود النجس فالأصل بقاء الطهارة."

(الفن الأول: القواعد الكلية، ص: 49،47، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: ولو شك إلخ) في التتارخانية: من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن."

(كتاب الطھارة، قبيل فرض الغسل، ج: 1، ص: 151، ط: سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712101098

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں