
ہم آنگن میں پتھر یعنی سِل پر کپڑے دھوتے ہیں، جہاں پر پانی بہہ کر جالی میں چلا جاتا ہے، اب ہم پہلے ناپاک اور پاک کپڑوں کو ایک بالٹی میں سرَف ڈال کر بھگوتے ہیں،پھر پتھر پر ایک ایک کپڑے کو الگ الگ دھوتےہیں،اور بالٹی میں جو نل سے چالو کیا ہوا پانی ہوتا ہے اس پانی کو مگ میں لیتے ہیں، یعنی بالٹی کا پانی مگ سے لے لے کر کپڑے پر ڈالتے ہیں، اور اس کپڑے کو رگڑتے ہیں، صابن لگاتے ہیں، اچھے سے دھوتے ہیں، تھوڑا سا نچوڑتے ہیں، پھر اس کو دوسری بالٹی میں ڈالتے ہیں، اور اس کو نچوڑتے ہیں، لیکن اچھے سے نہیں نچوڑتے، پھر اس کو دوسری بالٹی میں ڈال کر نچوڑ کر کپڑے رسی پر سکھا دیتے ہیں، تو کیا کپڑے پاک ہوجاتے ہیں؟ اگر نجاست نظر آنے والی ہوتی ہے تو اس کو بہت رگڑ کر دھوتے ہیں،اب چونکہ پاک ناپاک کپڑے سب ایک ساتھ بھگوتے ہیں پھر بعد میں الگ الگ ایک ایک کپڑے کو پتھر پر مذکورہ طریقے سے دھوتے ہیں، تو کپڑوں پر کچھ بھی نجاست نظر نہیں آتی بلکہ کپڑے پاک صاف نظر آتے ہیں، تو کیا وہ پاک ہوجاتے ہیں؟ میں بہت زیادہ وہمی ہوچکی ہوں اور اس طریقے سے ہم پندرہ بیس سال سے دھورہے ہیں، کیا اگر یہ ناپاک ہی رہے تو کیا اتنے سالوں کی نماز لوٹانی ہوگی؟ بہت زیادہ حرج ہوجائےگا اور میں باربار اسی سوچ میں ہوں،میں بہت زیادہ وہمی ہوچکی ہوں، واضح رہے کہ ایسی جگہ دھوتےہیں، جہاں سے پانی بہہ کر جالی میں چلا جاتا ہے اور جالی نیچے کی جانب ہے یعنی کہ جیسے پانی کسی گڑھے میں جارہا ہو ،وہ واپس نہیں آتا ہے، بہہ جاتا ہے، اب ایسے میں کیا تین بار دھونا اور نچوڑنا ضروری ہے؟ میں بہت پریشان ہوچکی ہوں ہم کو یقین ہوجاتا ہے کہ اب کوئی نجاست باقی نہیں ہے، کیا ایسی صورت میں وہ کپڑے پاک ہوں گے ؟
صور ت مسئولہ میں شک و شبہ میں پڑنے کی چنداں ضرورت نہیں ، مذکورہ طریقے سے دھوئے ہوئےکپڑےتین مرتبہ پانی بہانے اور نچوڑنےسے پاک ہوجاتےہیں، لہذا انہیں پہن کر نماز اور ادا کی گئی ديگر عبادات درست ہیں، انھیں لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے ۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما طريق التطهير بالغسل فلا خلاف في أن النجس يطهر بالغسل في الماء الجاري، وكذا يطهر بالغسل بصب الماء عليه، واختلف في أنه هل يطهر بالغسل في الأواني، بأن غسل الثوب النجس أو البدن النجس في ثلاث إجانات؟ قال أبو حنيفة ومحمد: يطهر، حتى يخرج من الإجانة الثالثة طاهرا."
(كتاب الطھارة، فصل:في طريق التطھير بالغسل، ج : 1، ص: 87، ط: دارالكتب العلمية)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"(منها) الغسل: يجوز تطهير النجاسة بالماء وبكل مائع طاهر يمكن إزالتها به كالخل وماء الورد ونحوه مما إذا عصر انعصر. ۔۔ وإزالتها إن كانت مرئية بإزالة عينها وأثرها إن كانت شيئا يزول أثره ولا يعتبر فيه العدد. كذا في المحيط فلو زالت عينها بمرة اكتفى بها ولو لم تزل بثلاثة تغسل إلى أن تزول، كذا في السراجية.وإن كانت شيئا لا يزول أثره إلا بمشقة بأن يحتاج في إزالته إلى شيء آخر سوى الماء كالصابون لا يكلف بإزالته. هكذا في التبيين وكذا لا يكلف بالماء المغلي بالنار. هكذا في السراج الوهاج."
(کتاب الطھارۃ، الباب السابع في النجاسة و أحكامھا، الفصل الأول في تطھير الأنجاس، ج: 1، ص:75، ط: رشيديه)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100500
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن