بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کینٹین والوں کا صدقہ کی برف کو بیچنا


سوال

ہمارے بنوں تبلیغی مرکز میں بعض احباب برف بھیج دیتے ہیں تاکہ عام لوگوں کو اس سے نفع حاصل ہو ،چنانچہ کنٹین والے حضرات ان میں سے کچھ حصے کو لے کر شربت بنانے میں استعمال کرتے ہیں ،البتہ فی گلاس شربت عام ریٹ سے تقریبا دس روپے سستا بیچتے ہیں ،تو کیا مذکورہ برف کو اس طریقے پر استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں شرعی حکم بتا دیجئے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں کینٹین والوں کے لیے برف کا استعمال درست نہیں ہے،اس لیے اولاً تو اس کی افادیتِ عامہ خاص ہو گئی ،یعنی جو لوگ خریدیں گے صرف وہی اس برف سے فائدہ اٹھا سکیں گے ،ثانیا برف  شربت کے ساتھ مخلوط ہو گئی ہے ،لہذا  برف کا مبیع (فروخت شدہ مال)بننا لازم آرہا ہے،پس اس سے اجتناب کیا جائے، بلکہ مذکورہ کینٹین والوں پر لازم ہے کہ وہ برف مفت بھیجنے والوں کی نیت اور منشاء کے مطابق اس برف کو استعمال کریں۔ 

"فتاوی شامی میں ہے:

"شرط الواقف كنص الشارع، أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به."

(کتاب الوقف، ج: 4، ص:433، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100317

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں