
ہمارے زمانے میں لوگ جو چادر کندھے پر رکھتے ہیں، کیا یہ سنت ہے ہم نے تو غور کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے پاس جو چادر ہوا کرتی تھی، وہ قمیض کے طور پر استعمال کرتے تھے، اس طرح چادر نہیں تھی جو ہمارے زمانے میں لوگ بغیر کسی ضرورت کے گرمی ،سردی میں کندھے پر رکھتے ہیں، یا واقعی ہمارے زمانے والی چادر کا ثبوت سنت سے ہے ؟اس میں کندھے کی صراحت کی ضرورت ہے!
اور اسوہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مصنف ڈاکٹر عبدالحی صاحب رحمہ اللہ تعالی،سنت حبیب مصنف مولنااختر حسین بہاولپوری، پیارے رسول کی پیاری سنتیں ،اور نشرالطیب مصنف مولانا اشرف علی تھانوی رحمہم اللہ تعالی کتابوں میں موجود سنتوں کو پڑھ کر ان پر عمل کر سکتے ہیں ؟
واضح رہے کہ کندھے پر چادر رکھنا، جس طرح بعض علاقے کے لوگ رکھتے ہیں، یا بعض علماء رکھتے ہیں، یہ علماء و صلحاء کی عادت ہے، سنت نہیں ہے،اور نہ سنت سے ایک کندھے پر چادر رکھنے کا کوئی ثبوت ہے، چنانچہ احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتاہے کہ آں حضرت ﷺکے پاس کپڑا یاچادر ہواکرتی تھی جس سے بعض اوقات وضوکے بعداعضائے وضو پونچھ لیاکرتے تھے، نیز بعض خاص مواقع کے لیے بھی چند منقش اور غیرمنقش چادریں تھیں، جنہیں آپ ﷺحسبِ موقع استعمال فرماتے تھے ۔
لہذا صورت مسئولہ میں کندھے پر چادر رکھنا جائز ہے ، بلکہ نیک اور صالح لوگوں کی عادت ہے، باقی اس کو سنت نہیں کہا جائے گا، اور اس پر عمل کرنا بھی منع نہیں ہو گا۔
نیز سوال میں مذکورہ کتابیں اہلسنت والجماعت کے اکابر علماء کی ہیں،ان کو پڑھ کر ان میں ذکر کردہ سنتوں پر عمل کر سکتے ہیں۔
صحیح البخاری میں ہے :
"عن أنس بن مالك قال كنت أمشي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه برد نجراني غليظ الحاشية، فأدركه أعرابي فجبذه بردائه جبذة شديدة، حتى نظرت إلى صفحة عاتق رسول الله صلى الله عليه وسلم قد أثرت بها حاشية البرد من شدة جبذته، ثم قال: يا محمد مر لي من مال الله الذي عندك، فالتفت إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم ضحك، ثم أمر له بعطاء."
ترجمۃ:حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں (انس) رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم چوڑے حاشیہ کی ایک نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے تو ایک اعرابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زور سے کھینچا اور میں نے دیکھا کہ اس اعرابی کے زور سے کھینچنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پر چادر کے کنارے کا نشان پڑ گیا تھا اور اس بدو نے کہا کہ مجھے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )اللہ کے اس مال میں سے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہے کچھ دلوادیجیے، تو آپ ﷺ اس کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور کچھ دینے کا حکم دیا۔
( كتاب اللباس ،باب: البرود والحبرة والشملة، ج:5، ص:2188، ط:دار ابن كثير دار اليمامة)
سنن الترمذی میں ہے :
"عن عائشة قالت: (كان لرسول الله صلى الله عليه وسلم خرقة ينشف) بها بعد الوضوء."
(کتاب الطهارة ،باب المنديل بعد الوضوء،ج:1، ص:91، ط: دار الغرب الإسلامي بيروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"(سدل) تحريما للنهي (ثوبه) أي إرساله بلا لبس معتاد، وكذا لقباء بكم إلى وراء. ذكره الحلبي؛ كشد ومنديل يرسله من كتفيه، فلو من أحدهما لم يكره كحالة عذر وخارج صلاته في الأصح.
وفی الرد:(قوله كشد) هو شيء يعتاد وضعه على الكتفين كما في البحر، وذلك نحو الشال (قوله فلو من أحدهما لم يكره) مخالف لما في البحر حيث ذكر في الشد أنه إذا أرسل طرفا منه على صدره وطرفا على ظهره يكره (قوله وخارج صلاته في الأصح) أي إذا لم يكن للتكبر فالأصح أنه لا يكره."
(کتاب الصلاۃ، ج:1، ص:639، ط:سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101661
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن