
1۔ مسئلہ یہ ہے کہ کمرے میں تصویر رکھنے کا کیا حکم ہے؟
2۔اور بچوں کے کھلونوں کا(جوکہ جاندار کی تصویر مثلا شیر بکری وغیرہ ) کیا حکم ہے؟
شریعتِ مطہرہ میں تصویر سازی اور مجسمہ سازی منع ہے، حدیث شریف میں ہے کہ ایسے گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو، ایک دوسری حدیث شریف میں ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم گھر میں کوئی ایسی چیز دیکھتے جس میں جاندار کی تصاویر ہوں تو اسے توڑ دیتے، لہذا:
1۔ گھر میں یا کمرے وغیر ہ میں تصاویر رکھنا شرعاً منع ہے، البتہ اس کی بجائے کسی خوب صورت منظر کی تصویر لگاسکتے ہیں۔
2۔ اسی طرح ایسے کھلونے گھر میں رکھنا منع ہے جو جان دار کے مجسمے ہوں یا جس پر جان دار کی تصاویر بنی ہوں، ایسے کھلونے رحمت کے فرشتوں کے داخل ہونے میں رکاوٹ بنتے ہیں، بچوں کے کھیلنے کے لیے ایسے کھلونے خریدے جائیں جو جاندار کی تصاویر سے خالی ہوں۔
صحیح بخاری میں ہے:
''عن ابن عباس، عن أبي طلحة، رضي الله عنهم قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «لا تدخل الملائكة بيتاً فيه كلب ولا تصاوير."
'' عن عمران بن حطان، أن عائشة، رضي الله عنها حدثته: أن النبي صلى الله عليه وسلم «لم يكن يترك في بيته شيئاً فيه تصاليب إلا نقضه."
"عن نافع، أن عبد الله بن عمر، رضي الله عنهما أخبره: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " إن الذين يصنعون هذه الصور يعذبون يوم القيامة، يقال لهم: " أحيوا ما خلقتم، " أیضاً.
عن مسلم، قال: كنا مع مسروق، في دار يسار بن نمير، فرأى في صفته تماثيل، فقال: سمعت عبد الله، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: "إن أشد الناس عذاباً عند الله يوم القيامة المصورون" أیضاً''.
(كتاب اللباس، باب التصاوير، باب عذاب المصورين يوم القيامة، باب نقض الصور، ج:5، ص:2220، ط: دار ابن كثىر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101606
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن