
میں کمپنی کی طرف سے مختلف مد میں اخراجات کرتا ہوں، لیکن مہینے کے آخر میں بل نہ ہونے کی وجہ سے انہیں جمع نہیں کر پاتا۔ یہ تمام اخراجات کی رقم میرے پاس نوٹ کی صورت میں موجود ہے۔ کیا میں ان اخراجات کو تھوڑا تھوڑا یا ایک ساتھ کسی اور چیز کے بل میں شامل کر کے کمپنی سے کلیم کر سکتا ہوں؟ مثلاً اگر ایک بل 1000 روپے کا ہے تو میں اسے بڑھا کر 11000 روپے کر دوں تاکہ اپنی خرچ کی ہوئی رقم واپس کمپنی سے وصول کر سکوں۔ کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اگر کوئی اور جائز صورت ہو تو براہِ کرم آگاہ فرمائیں، کیونکہ اب کمپنی بل کے بغیر پرانے اخراجات کی ادائیگی نہیں کرتی۔ براہِ مہربانی شرعی اعتبار سے میری راہ نمائی فرمائیں!
صورتِ مسئولہ میں سائل چونکہ کمپنی کے لیے جب کوئی چیز خریدتا ہے تو اس کی حیثیت وکیل کی ہوتی ہے، اور وکالت کی بنیاد امانت پر قائم ہے۔ چنانچہ وکیل اپنے موکل کے لیے جو چیز جتنے روپے کی خریدے گا، اتنے ہی پیسے اپنے موکل سے لینے کا حق رکھتا ہے۔ اس سے زیادہ پیسے بتا کر لینا جھوٹ ہے، جو شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔
لہٰذا سائل پر لازم ہے کہ اپنی ذمہ داری یعنی امانت داری پوری کرے، ہر بل محفوظ رکھے اور بلاوجہ خیانت یا خود کو مشکوک نہ بنائے۔ موجودہ صورت میں بہتر یہی ہے کہ کمپنی کے سربراہ سے براہِ راست سچ بات کرکے اپنے خرچ کردہ پیسے وصول کرے، کیونکہ سچ ہی نجات دیتا ہے اور جھوٹ انسان کو ہلاکت میں ڈالتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پر امید رکھ کر سچ بیان کیا جائے تو ان شاء اللہ معاملہ حل ہو جائے گا۔
درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"المادة (1463) - (المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يده فإذا تلف بلا تعد ولا تقصير لا يلزم الضمان. والمال الذي في يد الرسول من جهة الرسالة أيضا في حكم الوديعة) . ضابط: الوكيل أمين على المال الذي في يده كالمستودع."
(الکتاب الحادی عشر، الباب الثالث، الفصل الاول، ج:3، ص:561، ط:دار الجيل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100492
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن