
سودا کروانے کا مروجہ کمیشن ایک فیصد ہے،اب سوداکروا دیا ہے لیکن عقد کے وقت کمیشن کی صراحت نہیں کی تھی تو کیا کمیشن لینا جائز ہے یا نہیں ؟
اگر سودا کروانے والا ایجنٹ ہے اور وہ اس کام میں معروف ہے تو اس کے لیے ایک فیصد کمیشن لینا جائز ہے و رنہ نہیں ۔
العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:
"(سئل) في دلال سعى بين البائع والمشتري وباع المالك المبيع بنفسه والعرف أن الدلالة على البائع فهل تكون على البائع؟
(الجواب) : نعم وفي فوائد صاحب المحيط الدلال إذا باع العين بنفسه ثم أراد أن يأخذ من المشتري الدلالة ليس له ذلك؛ لأنه هو العاقد حقيقة وتجب على البائع الدلالة؛ لأنه فعل بأمر البائع هكذا أجاب ثم قال ولو سعى الدلال بينهما وباع المالك بنفسه يضاف إلى العرف إن كانت الدلالة على البائع فعليه وإن كانت على المشتري فعليه وإن كانت عليهما فعليهما عمادية من أحكام الدلال وما يتعلق به ومثله في الفصولين وشرح التنوير للعلائي من البيع."
(كتاب البيوع،ج:1،ص:247،ط: دارالمعرفة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802100942
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن