بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کلالہ کی میراث کی تقسیم


سوال

 ایک شخص ہے، اس کے نہ ماں باپ ہیں، نہ بیوی، نہ اولاد کوئی ہے، 2 چچا ہیں، 5 بھائی ہیں اور 2 بہنیں ہیں، ان میں سے کس کو وراثت ملے گی؟ اور کتنی ملے گی؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد ،اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل مال سے اداکرنے کے بعد اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے بقیہ مال کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 12 حصوں میں تقسیم کرکے 2 حصے ہر ایک بھائی کو اور ایک حصہ ہر ایک بہن کو ملے گا ۔جب کہ مرحوم کے چچاوں کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ،البتہ اگر بہن بھائی  ان کو میراث میں سے کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں ۔

صورت تقسیم یہ ہے :

میت۔۔۔12

بھائی بھائیبھائیبھائیبھائیبہنبہن
2222211

فیصد کے اعتبار سے 16.66 فیصد ہر ایک بھائی کو اور 8.33 فیصد ہر ایک بہن کو ملےگا ۔

فقط واللہ  اعلم


فتوی نمبر : 144509100553

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں