بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

کالا لباس پہننے کا حکم


سوال

کالا لباس پہنے کا حکم؟

جواب

اگر  کسی خاص رسم ، عقیدہ یا سوگ کی بنیاد پرنہ ہو توفی نفسہ کالے رنگ کا لباس پہننے میں حرج نہیں ہے،  البتہ آج کے دور میں مکمل کالا لباس  بعض اہلِ باطل کا  مخصوص ایام میں شعار بن چکا ہے؛ اس لیے بہتر ہے کہ پورے کالے لباس سے جہاں تک ہوسکے اجتناب کریں، (خصوصاً جن دنوں میں اہل باطل کالے لباس کا اہتمام کرتے ہیں ان دنوں میں تو بالکلیہ اجتناب کریں)؛  تاکہ ان کی مشابہت سے بچ جائیں، کیوں کہ فساق و فجار کی مشابہت اختیار کرنا شرعاً ممنوع ہے۔

سنن الترمذي میں ہے:

" باب ما جاء في الثوب الأسود

حدثنا أحمد بن منيع، قال: حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة قال: أخبرني أبي، عن مصعب بن شيبة، عن صفية بنت شيبة، عن عائشة، قالت: خرج النبي صلى الله عليه وسلم ذات غداة وعليه مرط من شعر أسود.هذا حديث حسن غريب صحيح".

(ج4،ص505،ط؛دار الغرب الاسلامی)

سنن أبي داود میں ہے:

"باب في السواد

حدثنا محمد بن كثير، أخبرنا همام، عن قتادة، عن مطرف، عن عائشة، رضي الله عنها، قالت: " صنعت لرسول الله صلى الله عليه وسلم بردة سوداء، فلبسها، فلما عرق فيها وجد ريح الصوف، فقذفها - قال: وأحسبه قال: - وكان تعجبه الريح الطيبة". وفي الحدیث جواز لبس السواد، وهو متفق علیه".

(بذل المجهود، باب في السواد،ج12،ص101، دار البشائر الإسلامیة)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين  میں ہے:

"(وندب لبس السواد)

 (قوله: وندب لبس السواد)؛ لأن محمداً ذكر في السير الكبير في باب الغنائم حديثاً يدل على أن لبس السواد مستحب".

(مسائل شتی،ج6،ص755،ط؛سعید)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے:

"وفي التتارخانية: ولاتعذر في لبس السواد، وهي آثمة إلا الزوجة في حق زوجها فتعذر إلى ثلاثة أيام. قال في البحر: وظاهره منعها من السواد تأسفاً على موت زوجها فوق الثلاثة".

(باب العدۃ،فصل فی الحداد،ج3،ص533،ط؛سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504102425

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں