بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کئی غسل جمع ہوجائیں تو اُن سب کی طرف سے ایک غسل کافی ہے


سوال

حیض یا جنابت کے غسل دو یا اس سے بھی زیادہ رہ گیا ہو تو کیا ایک ہی غسل کرنا ہوگا یا پھر الگ الگ؟ میری شادی کو دو سال ہو چکے ہیں، شادی کے ایک مہینے بعد مجھے حمل تھا اور کچھ دن میں ہی میرا اسقاط حمل ہوگیا تھا، اس کے کچھ مہینے بعد پھرحمل ہوا، اور اس کے بعد میری طبیت خراب رہنے لگی جس میں میرے جنابت کے کچھ غسل میں کر نہیں سکی، اس کی وجہ سے میرے کافی غسل رہ گئے ہیں، اب یہ مجھے یاد بھی نہیں اب کتنے غسل رہ گئے۔ پھر میری بچی کی پیدائش ہوئی اور کچھ غسل میں نے کیے، وہ بھی یاد نہیں کہ میں نے کتنے غسل کیے، پھر میرے دوبارہ کچھ غسل رہ گئے ہیں اور میرے پہلے والا غسل جو رہے اور اب بچی کی پیدائش کے بعد جو غسل رہے، اب مجھے کیا کرنا چاہے؟ کیا مجھے تمام جتنے غسل نہیں کیے وہ سارے غسل کرنا ہوں گے ؟یا پھر ایک ہی غسل کر کے نماز،قرآن پڑھ سکتے ہیں اور روزے رکھ سکتےہیں؟

میری آپ سے گزارش ہے کہ میرے سوال کا جلد سے جلد جواب دیں اور میرے سوال کو اپنے صفحہ پر شائع نہ کریں۔جزاک اللہ 

جواب

بصورتِ مسئولہ آپ ایک دفعہ شرعی طریقہ سے غسل کرلیں تو اُس سے پاکی حاصل ہوجائے گی، اور ایک ہی غسل کر کے نماز و قرآن وغیرہ پڑھ سکتی ہیں، نیز جنابت یا ماہواری کے بند ہونے کےبعد غسل کیا ہو یا نہ کیا ہو، روزہ بہردو صورت رکھا جاسکتا ہے۔ لہذا  آپ کے لیے اب کئی بار غسل کرنا ضروری نہیں ہے۔ البتہ  گزشتہ ایام میں غسل میں تاخیر کی وجہ سے جو نمازیں نہ پڑھی ہوں یا روزے نہ رکھے ہوں، اب اُن کی قضاء اور تاخیر کرنے پر توبہ استغفار بہرصورت لازم ہے۔

فتح القدير على الهداية میں ہے:

"ويكفي ‌غسل ‌واحد لسنتي العيد والجمعة إذا اجتمعا كما لفرضي جنابة وحيض."

(كتاب الطهارات، ج:1، ص:66، ط:دارالفكر)

الدر المختار شرح تنوير الأبصار  میں ہے:

"وفي الخانية لو اغتسل بعد صلاة الجمعة لا يعتبر إجماعا؛ ويكفي ‌غسل ‌واحد لعيد وجمعة اجتمعا مع جنابة كما لفرضي جنابة وحيض."

(كتاب الطهارة، ص:28، ط:دار الكتب العلمية - بيروت)

مرقاة المفاتىح شرح مشكاة المصابيحمیں ہے:

"ولا جنب أي الذي اعتاد ترك الغسل تهاونا حتى يمر عليه وقت صلاة فإنه مستخف بالشرع."

(كتاب الطهارة، باب مخالطة الجنب: ج: 2، ص: 440، ط:دارالفكر)

وفيه ايضاً:

"وعنها(عائشة رضي الله عنها)  قالت: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدركه الفجر في رمضان وهو جنب من غير حلم فيغتسل ويصوم». متفق عليه ... ظاهر الحديث قول عامة العلماء: من أصبح جنبا اغتسل وأتم صومه، وقيل: يبطل، وقال إبراهيم النخعي: يبطل الفرض دون النفل، كذا ذكره ابن الملك، وهو منقول عن شرح السنة، وقال البيضاوي في قوله - تعالى - {فالآن باشروهن} الآية: في تجويز المباشرة إلى الصبح الدلالة على جواز تأخير الغسل إليه وصحة صوم المصبح جنبا، قال الطيبي: لأن المباشرة إذا كانت مباحة إلى الانفجار لم يمكنه الإغتسال إلا بعد الصبح اهـ"

 

(کتاب الصوم، باب تنزيه الصومأي بيان ما يدل على ما يجب تبعيد الصوم عما يبطله أو يبطل ثوابه أو ينقصه، ج: 4، ص: 1389، ط: دارالفكر)

الفتاوى العالمكيرية میں ہے:

"ومن ‌أصبح ‌جنبا أو احتلم في النهار لم يضره كذا في محيط السرخسي.''

(كتاب الصوم،الباب الثالث في مايكره للصائم ومالايكره،ج:1۔ ص:200، ط:المطبعة الكبري الأميرية ببولاق، مصر)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101913

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں