
مجھے کفُو کے بارے میں حنفی فقہ کے مطابق کچھ سوالات کرنے تھے۔ پہلا یہ کہ کیاغیر کفُو ہونے کے لیے تمام شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے یا کسی بھی ایک شرط کے نہ پورا ہونے سے غیر کفُو ہو جاتا ہے؟ جیسے: ایک لڑکا سید ہے اور لڑکی پٹھان ہے، تو نسب کے اعتبار سے لڑکا کفُو ہوا، مگر یہ لڑکا نان نفقہ دینے پر قدرت نہیں رکھتا۔ لڑکا اپنے والد کے کاروبار میں کام کرتا ہے 5000 مہینے پر، اس کا کاروبار پر کوئی اختیار نہیں، بس اوپر کے کام کرتا ہے جیسے بینک کے پیسے جمع کرنا، نکالنا یا مال پہنچانا لانا۔
وہ اپنے والد کے گھر میں رہتا ہے اور گھر کے تمام اخراجات والد اٹھاتے ہیں۔ اس نے ایک لڑکی سے اپنے والد کی رضا کے بغیر نکاح کیا۔ جب والد کو علم ہوا تو انہوں نے اس رشتہ کو قبول نہیں کیا، نہ کوئی ذمہ داری لی اور نہ ہی لڑکی کو گھر لانے کی اجازت دی۔ لڑکے کے پاس کوئی سرمایہ یا جائیداد بھی نہیں، اور نہ ہی اتنی تعلیم ہے کہ کوئی نوکری کر کے خرچ اُٹھا سکے۔ کیا یہ لڑکا کفُو ہے؟ لڑکی کے والد دکاندار ہیں اور ان کے مالی حالات اچھے ہیں۔
واضح رہے کہ فقہاء کرام نے پانچ چھ صفات کا ذکر کیاہےجن کا کفاءت میں اعتبار ہوتاہے۔(1) اسلام (2 ) دیانت و تقوی(3)نسب (4) حریت (5)پیشہ(6)اتنا مال جس سے شوہر مہر معجل ادا کرنے کی قدرت رکھتا ہو،اور نان ونفقہ کا بندوبست کرسکتا ہو۔
کفو ہونے کے لئےمذکورہ تمام اوصاف میں برابری کا اعتبار ہوتا ہےکہ لڑکاان تمام اوصاف میں لڑکی کے برابر(یابڑھ کر )ہوکم نہ ہو، اگران اوصاف میں سے کسی ایک میں بھی تفاوت ہو تو وہ کفونہیں ہے ۔
لہذا صورت مسئولہ میں لڑکا سید ہونے کی وجہ سےنسب میں کفو ہےاور اگر لڑکا یومیہ بنیاد پریا ماہانہ بنیاد پر لڑکی کا نان ونفقہ ادا کرسکتاہوتو اس صورت میں یہ نکاح درست ہوگااور اولیاء کو یہ نکاح فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہوگا، اس لیے کہ مال میں کفاءت کا معنی یہی ہے کی لڑکا مہر اور نان ونفقہ ادا کرنے کی قدرت رکھتا ہو، یہ لازم نہیں کہ جتنے مالدار لڑکی والے ہیں اتنے ہی مالدار لڑکے والے بھی ہوں۔ البتہ اگر واقعۃً لڑکا نہ مہر ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہو نہ ہی یومیہ یا ماہانہ بنیاد پر نان ونفقہ ادا کرنے کی استطاعت ہو توا س صورت میں کفو نہ ہونے کی وجہ سے اولیاء کو مذکورہ نکاح فسخ کرانے کا حق حاصل ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"ونظم العلامة الحموي ما تعتبر فيه الكفاءة فقال:
إن الكفاءة في النكاح تكون في … ست لها بيت بديع قد ضبط
نسب وإسلام كذلك حرفة … حرية وديانة مال فقط"
( کتاب النکاح، ج:4، ص: 196، ط: المکتبة الغفاریة )
فتح القدیر میں ہے:
"(قوله معتبرة) قالوا: معناه معتبرة في اللزوم على الأولياء حتى إن عند عدمها جاز للولي الفسخ "
( کتاب النکاح، باب الاولیاء والاکفاء، فصل فی الکفاءۃ، ج: 3، ص: 185، ط: المکتبة الرشیدیة )
الدرالمختار میں ہے:
"(وتعتبر) الكفاءة للزوم النكاح خلافا لمالك (نسبافقريش).... (حرية وإسلاما)...(ديانة) أي تقوى،(ومالا) بأن يقدر على المعجل ونفقة شهر لو غير محترف، وإلا فإن كان يكتسب كل يوم كنفايتها لو تطيق الجماع (وحرفة).....(وكذا الصبي كفء بغنى أبيه) أو أمه أو جده. نهر عن المحيط (بالنسبة إلى المهر) يعني المعجل كما مر (لا) بالنسبة إلى (النفقة) لان العادة أن الآباء يتحملون عن الابناء المهر لا النفقة."
( كتاب النكاح، ج:4، ص:196، ط: المكتبه الغفارية )
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"الكفاءة معتبرة في الرجال للنساء للزوم النكاح، كذا في محيط السرخسي ولا تعتبر في جانب النساء للرجال، كذا في البدائع. فإذا تزوجت المرأة رجلا خيرا منها؛ فليس للولي أن يفرق بينهما فإن الولي لا يتعير بأن يكون تحت الرجل من لا يكافئوه، كذا في شرح المبسوط للإمام السرخسي. الكفاءة تعتبر في أشياء(منها النسب).........(ومنها الكفاءة في المال) وهو أن يكون مالكا للمهر والنفقة وهو المعتبر في ظاهر الرواية حتى أن من لا يملكهما أو لا يملك أحدهما لا يكون كفئا كذا في الهداية موسرة كانت المرأة أو معسرة"
(كتاب النكاح، ج: 1، ص: 319،ط: مكتبه قديمي كتب خانه)
وفيه أيضاً:
"قال أبو نصر يعتبر في النفقة قوت سنة وكان نصير - رحمه الله تعالى - يقول: يعتبر قوت شهر وهو الأصح هكذا في التجنيس والمزيد. وعن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - إذا كان قادرا على المهر ويكسب كل يوم ما ينفق عليها كان كفئا وهو الصحيح، كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان."
(الباب الخامس في الأكفاء في النكاح،ج:1،ص:291،ط:دار الكتب العلمية)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101850
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن