
ایک لڑکا اپنے والد کے ساتھ کام کرتا ہے، لیکن اسے بہت کم تنخواہ ملتی ہے اور وہ مالی طور پر اپنے والد پر ہی منحصر ہے۔ وہ کاروبار میں کام تو کرتا ہے لیکن نہ کاروبار پر اس کا کوئی اختیار ہے اور نہ مالی معاملات پر۔ اس نے اپنے والد کو بتائے بغیر خود اپنا نکاح کر لیا۔ اس کی تنخواہ مہر اور بیوی کے نان و نفقہ کے لیے کافی نہیں ہے، اور اس کے پاس کوئی بچت بھی نہیں ہے۔ وہ اپنے والد کے گھر میں رہتا ہے اور گھر کے تمام فیصلے والد کی مرضی سے ہوتے ہیں۔ نکاح کے وقت اس کا خیال تھا کہ ابتدا میں اس کے گھر والے انکار کریں گے، لیکن بعد میں مان جائیں گے۔ اس نے سوچا تھا کہ اگر وہ نہ مانیں تو وہ انہیں بتا دے گا کہ نکاح ہو چکا ہے، تو وہ مجبوراً قبول کر لیں گے۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ بدستور اپنے والد کے ساتھ کام کرتا رہے گا اور میاں بیوی اسی گھر میں رہیں گے۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس ہو گیا۔ جب والد کو نکاح کا علم ہوا تو انہوں نے اسے قبول نہیں کیا اور کسی بھی ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کر دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسا لڑکا صرف اس بنیاد پر کہ اسے نکاح کے وقت امید تھی کہ اس کے گھر والے اس کا ساتھ دیں گے، ایک مستحکم مالی حالت رکھنے والے گھرانے کی لڑکی کے لیے "کفو" (ہم پلہ) شمار ہوگا؟
صورتِ مسئلہ میں اگر لڑکا مذکورہ لڑکی کا مہر ادا کرنے پر قادر ہے نیز اسی طرح لڑکی کو اپنی حیثیت اور مالی استطاعت کے بقدر نانفقہ دینے پر قاد ہو، تو لڑکا لڑکی کے لیے مالی اعتبار سے کفو شمار ہوگا، لیکن اگر مہر اور نان نفقہ ادا کرنے پر قادر نہیں ہے، تو لڑکی کے لیے لڑکا کفو شمار نہیں ہوگا، لیکن شرعی طریقے سے نکاح کرنے کی صورت میں نکاح صحیح ہو جائے گا۔
المحيط البرهاني میں ہے:
"الثاني: المال إلا رواية عن أبي يوسف رحمه الله رواها ابن زياد أن الكفاءة في المال غير معتبرة، وفي ظاهر الرواية معتبرة، والمعتبر فيه القدرة على المهر والنفقة، ولا تعتبر الزيادة على ذلك حتى إن من كان قادرا على المهر والنفقة كان كفئا لها وإن كانت صاحبة أموال كثيرة وهو الصحيح من المذهب،"
(کتاب النکاح:الفصل السادس: في الكفاءة:ج:3 ص:21 ط:اللأولى،دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)
تبيين الحقائق میں ہے:
"وقوله: ومالا أي تعتبر الكفاءة في المال أيضا لقوله عليه الصلاة والسلام «الحسب المال»؛ ولأنه يقع به التفاخر"
(باب اللأولياء والأکفاء:ج:2 ص:130 ط: اللأولى، المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة)
الفتاوى الهنديہ میں ہے:
«(ومنها الكفاءة في المال) وهو أن يكون مالكا للمهر والنفقة وهو المعتبر في ظاهر الرواية حتى أن من لا يملكهما أو لا يملك أحدهما لا يكون كفئا»
(كتاب النكاح: الباب الخامس في الأكفاء في النكاح: ج:1 ص: 291 ط: الثانية،دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100674
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن