
1) میر ے والد صاحب نے ایک مکان مکمل طور پر بناکرالگ کرکے صرف مجھے دے دیا گواہوں کی موجودگی میں،اس گھر میں صرف میں اور میر ے بچے رہ رہے تھے،اب میر ے والد کے انتقال کے بعد وہ میری ملکیت شمار ہوگی یا وراثت میں تقسیم ہوگی ؟
2)میں نےاپنے والد کی وفات کے بعد اپنی بہن کی شادی پر 3 لاکھ روپے خرچ کیےبطور احسان کے،کوئی معاہدہ وغیرہ اس وقت نہیں ہوا تھا ،توکیا وہ پیسے میں وراثت میں سےلے سکتا ہوں یا نہیں ؟
3)میرے والد نے میرے شادی کے موقع پر میری بیوی کو ،اپنے گاؤں کے گھر میں سے ایک کمرہ مع چاردیواری اور صحن کے اور پانچ تولہ سونا حق مہر لکھوایا تھا،3 تولہ سونا ادا کیا تھا اور 2 تولہ سونا باقی ہے ،یہ 2 تولہ سونا مرحوم کے ترکہ میں سے لیا جائے گا یا نہیں ،کیوں کہ ے میرے والد نے یہ مہر اپنے ذمہ لیا تھا؟
1) صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل کے والد نے مذکورہ مکان تعمیر کرکے مکمل قبضہ اور تصرف کے ساتھ سائل کے حوالے کیا تھا تو یہ مکان سائل کی ملکیت شمار ہوگا اور والد مرحوم کے ترکہ میں شامل نہیں ہوگا۔
2) جو رقم آپ نے اپنی بہن کی شادی پر بطور احسان خرچ کی ہے ، اس کی واپسی کے مطالبے کا شرعاً حق نہیں ہے ۔
3)مہر شرعاً شوہر کے ذمہ لازم ہوتا ہے ، لہذا مذکورہ مہر نکاح سے قبل آپ کی رضامندی سے لکھوایا گیا ہو یا نکاح کے وقت آپ نے اس پر رضامندی ظاہر کی ہو تو اس مہر کی ادائیگی لازم تھی، اور والد نے ذمہ داری اٹھاتے ہوئے جو آپ کی اہلیہ کا جو مہر اپنی زندگی میں اپنے مال سے ادا کیا وہ تبرع شمار ہوگا، البتہ بقیہ مہر کی ادائیگی سائل پر لازم ہوگی۔
البحر الرائق میں ہے :
"(قوله وجعلته لك) لأن اللام للتمليك ولهذا لو قال هذه الأمة لك كان هبة ۔۔۔۔۔ ولهذا قال في الخلاصة لو غرس لابنه كرما إن قال جعلته لابني تكون هبة."
(كتاب الھبة ، ج : 7 ، ص : 285 ، ط : دارالكتب الاسلامي)
بدائع الصنائع میں ہے :
"منھا ھلاك الموھوب لأنه لا سبيل الي الرجوع في الھالك و لا سبيل الي الرجوع في قيمته لأنھا ليست بموھوبة لا نعدام ورود العقد عليھا ."
(كتاب الھبة ، ج : 6 ، ص : 128 ، ط : دارالكتب العلمية)
الدالمختار مع رد المختار میں ہے:
" (وصح ضمان الولي مهرها ولو) المرأة (صغيرة) ولو عاقدا لأنه سفير، لكن بشرط صحته؛ فلو في مرض موته وهو وارثه لم يصح، وإلا صح من الثلث، وقبول المرأة أو غيرها في مجلس الضمان (وتطلب أيا شاءت) من زوجها البالغ، أو الولي الضامن (فإن أدى رجع على الزوج إن أمر) كما هو حكم الكفالة (ولا يطالب الأب بمهر ابنه الصغير الفقير) أما الغني فيطالب أبوه بالدفع من مال ابنه لا من مال نفسه (إذا زوجه امرأة إلا إذا ضمنه) على المعتمد
(قوله ولم يصح) لأنه تبرع لوارثه في مرض موته فتح زاد في البحر عن الذخيرة: وكذا كل دين ضمنه عن وارثه أو لوارثه اهـ أي بمنزلة الوصية لوارثه. لا يقال: إنه لا تبرع من الكفيل بشيء، فإنه لو مات قبل الأداء ترجع المرأة في تركة ويرجع باقي الورثة في نصيب الابن لو كفله الأب بأمره أو كان صغيرا كما قدمناه. لأنا نقول: رجوع باقي الورثة على المكفول عنه لا يخرج الكفالة عن كونها تبرعا ابتداء لأنه قد يهلك نصيبه وهو المفلس أو قد لا يمكنهم الرجوع، ويدل على ذلك أيضا أن كفالة المريض لأجنبي تعتبر من الثلث، ولو لم تكن تبرعا لصحت من كل المال كباقي تبرعاته بل أبلغ من هذا أنه لو باع وارثه شيئا من ملكه بمثل القيمة أو أقل أو أكثر فالبيع باطل حتى لا تثبت به الشفعة خلافا لهما كما في المجمع فافهم
(قوله إذا زوجه امرأة) مرتبط بقوله ولا يطالب الأب إلخ لأن المهر مال يلزمه ذمة الزوج ولا يلزم الأب بالعقد، إذ لو لزمه لما أفاد الضمان شيئا بحر."
(کتاب النکاح، باب المھر، ج:3، ص:141، ط:سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101256
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن