
احادیثِ مبارکہ میں جمعہ کے دن موت واقع ہونے کے متعلق کیا فضیلت وارد ہوئی ہے؟ کیا ایسے شخص کی مغفرت کا وعدہ ہے؟ بعض لوگ اس کے بارے میں اتنا غلو کرتے ہیں کہ جو شخص بھی جمعہ کے دن انتقال کرے، اس کو مغفور اور جنتی سمجھتے ہیں، چاہے وہ کتنا ہی فاسق و فاجر شخص گزرا ہو، کیا لوگوں کا اس طرح سمجھنا درست ہے؟ جو شخص چاہے جتنا بھی گناہ گار ہو، کبائر میں مبتلا رہا ہو، اگر اس کا جمعہ کے دن انتقال ہوجائے تو کیا یہ اس کے عند اللہ مقبول ہونے کی علامت ہے؟ گزشتہ دنوں کسی اداکارہ کا انتقال ہوا، تو لوگوں نے کہا کہ دیکھو مولوی لوگ یونہی اس کو غلط کہتے ہیں، یہ تو اللہ کی نیک بندی تھی، اس کا جمعہ کو انتقال ہوا۔براہ کرم وضاحت فرمائیں!
جمعہ کے دن یا شبِ جمعہ میں موت واقع ہونے کی فضیلت کے متعلق حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی روایت ہے کہ :”جو شخص جمعہ یا شبِ جمعہ کو انتقال کر جائے وہ عذابِ قبر سے محفوظ رہتا ہے۔“ بعض روایات میں یہ بھی منقول ہے کہ ایسے شخص کو شہادت کا درجہ ملے گا۔
البتہ اس فضیلت سے یہ سمجھ لینا درست نہیں کہ ایسے شخص کے لیے قیامت کے دن حساب و کتاب سے کلی نجات کی بشارت بھی قطعی طور پر ثابت ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت سے کچھ بھی بعید نہیں کہ ایسے افراد کا حساب آسان کر دیا جائے یا معاف فرما دیا جائے، لیکن نصوص میں صراحت صرف عذابِ قبر سے نجات تک محدود ہے۔
اسی طرح شہید بھی حقوق العباد سے متعلق بازپرس سے مستثنیٰ نہیں ہوتا؛ لہٰذا جمعہ کے دن موت کو جنت میں داخلے کا یقینی سبب سمجھ لینا درست نہیں۔ اعمالِ صالحہ کی ضرورت قرآن و حدیث میں بارہا بیان ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہر انسان قیامت کے دن اپنے کیے ہوئے اعمال کو حاضر پائے گا۔
جہاں تک اداکاری کے پیشے کا تعلق ہے تو یہ شرعاً ناجائز اور حرام ہے، کیوں کہ اس میں بہت سے شرعی احکامات کی خلاف ورزی ہوتی ہے:تصویر سازی اور ویڈیو گرافی ہوتی ہے، مرد و زن کا آزادانہ اختلاط اور جسمانی لمس پایا جاتا ہے، نیم عریاں یا بے پردہ لباس کا استعمال عام ہے، بے حیائی اور بدنظری کے اسباب پیدا ہوتے ہیں، خلافِ حقیقت اور جھوٹ پر مبنی مواد پیش کیا جاتا ہے، موسیقی اور آلاتِ موسیقی کا استعمال ہوتا ہے، اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتا ہے، حیا اور غیرت کے خاتمے کا ذریعہ بنتا ہے، اور بہت سے دیگر منکرات اس پیشے کے ساتھ وابستہ ہیں۔
لہٰذا اگر علمائے کرام اس پیشے کی قباحت بیان کریں یا اس سے وابستہ لوگوں کی حوصلہ شکنی کریں تو یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ شرعاً مطلوب ہے، کسی اداکارہ کے جمعہ کے دن وفات پانے سے اس پیشے کے درست ہونے کا نتیجہ اخذ کرنا غلط فہمی ہے۔
قرآن کریم میں ہے:
{وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِراً}(سورۃ الکھف، الأیة:49)
”اور پائیں گے جو کچھ کیا ہو سامنے۔“(از معارف القرآن)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"وصح في مسلم: «إن الشهيد يغفر له كل شيء إلا الدين» ، أي: إلا حقوق الآدميين، والله أعلم."
(كتاب الجنائز، ج:3، ص:1145، ط:دار الفکر)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"وأخرج حميد في ترغيبه عن إياس بن بكير أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " من مات يوم الجمعة كتب له أجر شهيد."
(کتاب الصلاة، باب الجمعة، 1021/3، ط:دار الفكر)
شرح الصدوربشرح احوال الموتی والقبورمیں ہے:
"وأخرج أحمدوالترمذي وحسنه وابن أبی الدنیاوالبیھي، عن ابن عمرقال. قال رسول ﷺ: "مامن مسلم یموت یوم الجمعة أولیلة الجمعة ألاوقاه اللہ فتنة القبر".
قال الحكيم : في توجيه حديث المرابط أنه قد ربط نفسه وسجنها وصيرها حبيساً لله في سبيله لمحاربة أعدائه، فإذا مات على هذا، فقد ظهر صدق ما في ضميره فوقي فتنة القبر. قال : ومن مات يوم الجمعة فقد انكشف الغطاء عما له عند الله تعالى، لأن يوم الجمعة لا تسجر فيه جهنم وتغلق أبوابها ولا يعمل سلطان النار ما يعمل في سائر الأيام، فإذا قبض الله عبداً من عبيده، فوافق قبضه يوم الجمعة كان ذلك دليلا لسعادته وحسن مآبه، وإنه لم يقبض في هذا اليوم العظيم إلا من كتب الله له السعادة عنده، فلذلك يقيه فتنة القبر لأن سببها إنما هو تمييز المنافق من المؤمن . انتهى"
(باب من لایسئل في القبر، ص:149، ط:دارالمدنه)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وكل ذلك في الشهيد الكامل، وإلا فالمرتث شهيد الآخرة وكذا الجنب ونحوه، ومن قصد العدو فأصاب نفسه، والغريق والحريق والغريب والمهدوم عليه والمبطون والمطعون والنفساء والميت ليلة الجمعة وصاحب ذات الجنب ومن مات وهو يطلب العلم، وقد عدهم السيوطي نحو الثلاثين.
(قوله والميت ليلة الجمعة) أخرج حميد بن زنجويه في فضائل الأعمال عن مرسال إياس بن بكير أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال :من مات يوم الجمعة كتب له أجر شهيد. أجهوري."
(باب صلاة الجنازة، باب الشهيد، مطلب المعصية هل تنافي الشهادة؟، 253/2، ط:سعید)
ملفوظاتِ حکیم الامت میں ہے:
”فرمایارمضان میں اگرانتقال ہوتوایک قول یہ ہےکہ قیامت کےدن حساب نہیں ہوتا۔یہی جی کولگتاہے، اور أناعندظن عبدی بي پرعمل کرے۔“
(ج:26، ص:405، ط:ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101592
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن