
میں لمبے بال رکھ رہا ہوں تو میرے بالوں کا ایک حصہ جسے ”قلم“ کہتے ہیں، جو کان کے پاس رہتا ہے، اُسے شیو کروانا کیسا ہے؟ کیا یہ جائز ہے؟ کیا اُسے شیو کروانے سے ”قَزَع“ (یعنی سر کے کچھ حصے کے بال منڈوانا اور کچھ چھوڑ دینا) کا حکم نہیں لگے گا؟
سر کے بالوں کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ یا تو سر کے پورے بال رکھے جائیں یا پورے کاٹے جائیں، سر کے کچھ بال کاٹنا اور کچھ چھوڑدینا منع ہے، اسے حدیث میں ”قزع“ سے تعبیر کرکے اس کی ممانعت کی گئی ہے، اور ”قزع“ کی مختلف صورتیں ہیں، حاصل ان کا یہی ہے کہ سر کے بال کہیں سے کاٹے جائیں اور کہیں سے چھوڑدیے جائیں۔
کان کے اوپر کا حصہ چوں کہ سر کی حدود میں داخل ہے، لہذا اگر کان کے اوپر کے بال اس طرح کاٹے جائیں کہ ان کی وجہ سے یہ بال کم اور باقی سر کے بال بڑے ہوں تو یہ درست نہیں ہے، البتہ کان کے اطراف کے بال جو کان پر لگ رہے ہوں انہیں برابر کرنے کے لیے اطراف سے معمولی بال کاٹ لینا جیسا کہ عام طور پر اس کا معمول ہے کہ سر کے بالوں کو متعین کرنے اور اس کو دوسرے بالوں سے جدا کرنے کے لیے کان کے اوپر بلیڈ لگاتے ہیں تو اس کی گنجائش ہے، تاہم یہ خیال رہے کہ زیادہ اوپر سے بلیڈ نہ لگایا جائے ورنہ ”قزع“ میں داخل ہوگا۔
سنن أبي داود میں ہے:
"عن ابن عمر قال نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن القزع والقزع أن يحلق رأس الصبى فيترك بعض شعره."
(کتاب الترجل، باب في الصبي له ذؤابة، ج:4، ص:83، ط:المكتبة العصرية بيروت)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(قوله وأما حلق رأسه إلخ) وفي الروضة للزندويستي أن السنة في شعر الرأس إما الفرق أو الحلق. وذكر الطحاوي: أن الحلق سنة، ونسب ذلك إلى العلماء الثلاثة، وفي الذخيرة: ولا بأس أن يحلق وسط رأسه ويرسل شعره من غير أن يفتله وإن فتله فذلك مكروه، لأنه يصير مشبها ببعض الكفرة والمجوس في ديارنا يرسلون الشعر من غير فتل، ولكن لا يحلقون وسط الرأس بل يجزون الناصية تتارخانية قال ط: ويكره القزع وهو أن يحلق البعض ويترك البعض قطعا مقدار ثلاثة أصابع كذا في الغرائب."
(كتاب الحظر والإباحة، فصل فی البیع، ج:6، ص:407، ط:سعید)
فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:
"يكره القزع وهو أن يحلق البعض ويترك البعض قطعا مقدار ثلاثة أصابع كذا في الغرائب."
(كتاب الكراهية، الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وحلق المرأة شعرها ووصلها شعر غيرها، ج:5، ص:357، ط:دارالفکر)
تحفۃ المودودباحکام المولود میں ہے:
"والقزع أربعة أنواع: (أحدها) أن يحلق من رأسه مواضع من ها هنا وها هنا. مأخوذ من «تَقَزُّعِ السَّحاب وهو تَقَطُّعُه. (الثاني) أن يحلق وسطه ويترك جوانبه، كما يفعله شَمَامِسَةُ النَّصارى. (الثالث) أن يحلق جوانبه ويترك وسطه، كما يفعله كثير من الأوباش والسفل. (الرابع) أن يحلق مقدّمه ويترك مؤخَّره، وهذا كلُّه من القَزَع. والله أعلم."
(الباب السابع فی حلق رأسه والتصدق بوزن شعره،ص،143،ط:دار ابن حزم بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711102410
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن